امریکی خفیہ ایجنسی کی سابق ٹارگٹنگ افسر سارہ ایڈمز نے تصدیق کی ہے کہ افغانستان میں کالعدم تنظیموں کے مراکز موجود ہیں، جہاں پاک فوج کی کارروائیوں میں دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔
دی پالیسی ڈائیجسٹ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں افغانستان سے پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشت گردی کے شواہد ایک بار پھر عالمی سطح پر عیاں ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی سابق ٹارگٹنگ افسر سارہ ایڈمز نے بھی اس بات کی مکمل تصدیق کر دی ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر دہشت گردوں کے مضبوط مراکز قائم ہیں۔
سارہ ایڈمز کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے پکتیکا اور کنڑ کے علاقوں میں تین اہم مراکز کے خلاف کارروائیاں کی گئیں، جن کے نتیجے میں فتنہ الخوارج کے 19 دہشت گرد ہلاک جبکہ 11 سے زائد زخمی ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ 21 ستمبر کو پاکستان کے درست فضائی حملوں میں مشرقی افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ان حملوں میں خودکش بمباروں کا ایک بڑا تربیتی کیمپ، دہشت گردوں کی سہولت کاری کا مرکز اور فتنہ الخوارج و داعش کا مشترکہ مرکز بھی خاکستر کر دیا گیا۔
عالمی تحقیقات میں افغانستان کے اندر ان دہشت گردوں کے وجود اور ان پر ہونے والی کارروائیوں کی تصدیق نے پاکستانی مؤقف کو درست ثابت کر دیا ہے۔






