داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی کے داخلہ ٹیسٹ کے نتائج سے انکشاف ہوا ہے کہ اندرون سندھ کے تعلیمی بورڈز کے بچوں کی کامیابی کا تناسب 80 فیصد سے بھی کم رہا ہے۔
انجینئرنگ کے داخلہ ٹیسٹ میں کامیابی اور میڈیکل کے داخلے کے لیے ایم ڈی کیٹ کے نتائج میں نمایاں فرق نے پورے امتحانی نظام پر بڑے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ایم ڈی کیٹ کے ٹاپ 20 امیدواروں میں کیمبرج، آغا خان اور کراچی انٹرمیڈیٹ بورڈ کا کوئی بھی طالب علم جگہ نہیں بنا سکا۔
دوسری جانب داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی کے داخلہ ٹیسٹ میں اندرون سندھ کے سرکاری تعلیمی بورڈز کے امیدواروں کی کارکردگی تسلی بخش نہیں رہی اور ان کی کامیابی کا تناسب 80 فیصد سے کم ریکارڈ کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق داؤد یونیورسٹی کے داخلہ ٹیسٹ میں صرف تین بورڈز کے نتائج 92 فیصد تک رہے۔ آئی بی اے کراچی کے تحت ہونے والے داخلہ ٹیسٹ میں کیمبرج بورڈ کے تمام امیدوار کامیاب قرار پائے اور ان کی کامیابی کا تناسب 100 فیصد رہا۔
اسی طرح آغا خان ایجوکیشنل بورڈ کے 49 میں سے 48 امیدوار (تقریباً 98 فیصد) کامیاب ہوئے۔ کراچی بورڈ سے سب سے زیادہ ایک ہزار 662 امیدواروں نے درخواستیں دی تھیں، جن میں سے ایک ہزار 521 امیدوار (تقریباً 92 فیصد) کامیاب ہوئے۔
اس کے برعکس اندرون سندھ کے بورڈز کی کارکردگی کمزور رہی، جن میں سکھر بورڈ کی کامیابی 69 فیصد، میرپورخاص بورڈ کی 71 فیصد، حیدرآباد بورڈ کی 74 فیصد، نوابشاہ بورڈ کی 78 فیصد اور لاڑکانہ بورڈ کی کامیابی 75 فیصد رہی۔
ضیاءالدین بورڈ کی کامیابی 73 فیصد جبکہ سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کی کامیابی 62 فیصد رہی۔ اس سے قبل جامعہ این ای ڈی کے داخلہ ٹیسٹ میں بھی تعلیمی بورڈز کی کارکردگی میں ایسا ہی واضح فرق دیکھا گیا تھا۔






