نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ خطے اور دنیا کے لیے دہشت گردی سب سے بڑا چیلنج ہے، افغان طالبان رجیم کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا ہوگا۔
اسلام آباد میں خیبر پختونخوا کے حوالے سے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے بہادری کے ساتھ دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے اور اس جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی بے مثال قربانیاں دی ہیں، جس سے ملکی معیشت کو بھی شدید مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کو ہماری ان لازوال قربانیوں کا اعتراف کرنا ہوگا، کیونکہ پاکستان تنازعات کے پرامن حل کا حامی ہے اور دنیا ہمیں ایک امن پسند ملک کے طور پر جانتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ہدایات پر روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردوں کے خلاف مؤثر آپریشنز ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔ پاکستان نے افغان سرحد پر حفاظتی باڑ لگائی ہے۔ افغانستان کی ہمیشہ انسانی ہمدردی کے تحت مدد کی ہے، لیکن کابل حکام کو اپنے وعدے نبھانے ہوں گے اور افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کو اسلحہ دینا فوری بند کرے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے بھارت ملوث ہے اور کلبھوشن کا معاملہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دھرنوں اور احتجاج کے باعث معیشت کو بڑا نقصان پہنچا ہے اور حکومت کے پاس ایمرجنسی لگانے کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا تھا، مذہب کا لبادہ اوڑھ کر بے گناہ لوگوں کو شہید کرنے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔






