تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
پاکستان

گورنر راج اور ایمرجنسی 13 سال کی نااہلی کا قصور ہے، وزیراعلیٰ پنجاب

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی 13 سال کی نااہلی کا قصور ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے گزشتہ 13 برسوں میں دھرنے، احتجاج، انتشار اور سیاسی کشمکش دیکھی ہے۔ اگر آج خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی باتیں ہو رہی ہیں تو اس کی ذمہ داری عوام پر نہیں ڈالی جاسکتی۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں صوبے ایک ہی ملک کا حصہ ہیں۔ دونوں پر ایک ہی آئین لاگو ہے اور دونوں کو قومی وسائل میں حصہ ملتا ہے۔ دونوں صوبوں کے درمیان فرق وسائل کا نہیں بلکہ نیت اور انتظامی صلاحیت کا ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں ترقیاتی منصوبے شروع کیے جاسکتے ہیں تو خیبر پختونخوا میں بھی ایسا ممکن ہے۔ اگر پنجاب میں صفائی کے نظام کو بہتر بنایا جاسکتا ہے تو خیبر پختونخوا میں بھی عوام کو صاف ماحول دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا میں عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے سیاسی سرگرمیوں کو زیادہ اہمیت دی گئی۔

انہوں نے بچوں کی تعلیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے طلبہ کے لیے اسکالرشپ پروگرام شروع کیے جاسکتے ہیں تو خیبر پختونخوا کے بچوں کے لیے بھی ایسے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ صوبے کے نوجوانوں کو احتجاج اور دھرنوں کے بجائے تعلیم اور روزگار کے بہتر مواقع کی ضرورت ہے۔

مریم نواز نے امن و امان کی صورتحال پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پنجاب میں ماؤں کو اپنے بچوں کے حوالے سے اطمینان حاصل ہوسکتا ہے تو خیبر پختونخوا میں بھی عوام کو تحفظ ملنا چاہیے۔ اہوں نے الزام لگایا کہ صوبے میں عوام کی حفاظت کے بجائے سیاسی سرگرمیوں اور اسلام آباد کی جانب مارچ کو زیادہ توجہ دی گئی۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پنجاب میں گرین الیکٹرک بسیں چلائی جا سکتی ہیں تو خیبر پختونخوا میں بھی جدید سفری سہولتیں فراہم کی جاسکتی ہیں۔ اسی طرح پنجاب کے دیہی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر کا کام ہوسکتا ہے تو خیبر پختونخوا کے دیہات میں بھی بنیادی انفرااسٹرکچر بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ صوبے میں مفت ادویات، فیلڈ اسپتال اور کلینک آن ویلز جیسی سہولتیں عوام کو ان کی دہلیز کے قریب فراہم کی جا رہی ہیں۔ خیبر پختونخوا کے مریضوں کو بھی بہتر اور آسان طبی سہولتیں ملنی چاہئیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے بیان میں کہا کہ ان تمام سوالات کا جواب 13 سالہ انتشار اور نااہلی میں موجود ہے۔ حکومتیں صرف دعووں اور نعروں سے نہیں چلتیں بلکہ عملی کام سے اپنی کارکردگی ثابت کرتی ہیں۔

مریم نواز نے آخر میں کہا کہ پنجاب نے یہ ثابت کیا ہے کہ حکومت کی کامیابی کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔ خیبر پختونخوا کے عوام کو اب سیاسی انتشار کے بجائے خدمت، ترقی، امن اور عوامی سہولتوں کی ضرورت ہے۔