رحمان بابا ایکسپریس کو شاہ ریلوے اسٹیشن کے پاس خوفناک حادثہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں ٹرین کی 14 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، جس سے 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔
کراچی سے پشاور جانے والی مسافر ٹرین رحمان بابا ایکسپریس کو ملتان میں شیر شاہ ریلوے اسٹیشن کے آؤٹر سگنل اور شیر شاہ پل کے قریب ایک بڑے حادثے کا سامنا کرنا پڑا۔
اطلاعات کے مطابق اس حادثے میں 5 مسافر جاں بحق جبکہ 10 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں سے کئی مسافروں کی حالت انتہائی نازک بتائی جا رہی ہے، جس سے اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔
حادثے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ ٹرین کا انجن اور بریک وین چھوڑ کر باقی تمام 14 بوگیاں پٹری سے نیچے اتر گئیں اور کئی بوگیوں کے پہیے بوگی سے الگ ہو گئے۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ملتان سے امدادی ٹرین اور ریلیف ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر روانہ کر دی گئیں اور ریسکیو اہلکاروں نے زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ اس حادثے کے باعث دونوں اطراف کا ریل کا نظام معطل اور شدید متاثر ہوا ہے۔
ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر فیصل سلیم نے نشتر اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی اورریسکیو آپریشن میں زخمیوں کی فوری اسپتال منتقلی کے عمل کو مزید تیز کیا۔ مسافروں کیلئے جائے حادثہ پر ریلیف کیمپ بھی قائم کردیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ مسافروں کو رہائش اور کھانے سمیت ضروری سامان کی ترسیل کا کام بھی آغاز کردیا گیا۔ مسافروں کے عزیزوں کیلئے انفارمیشن ڈیسک بھی قائم کیا جارہا ہے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ٹرین حادثے اظہارِ تشویش کیا اور جاں بحق ہونے والے مسافروں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت و ہمدردی اور زخمی مسافروں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
صدرِ مملکت نے متعلقہ حکام کو متاثرہ مسافروں کی امداد اور ہر ممکن سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی اور حکم دیا کہ حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے شفاف تحقیقات کروائی جائیں۔
ادھر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے رحمان بابا ایکسپریس کے حادثے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہارِ افسوس کیا ہے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور امدادی کارروائیوں کو مزید تیز کیا جائے۔






