خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے وفاقی اقدام پر صوبے بھر کے شہریوں نے شدید مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلے کا گرم جوشی سے خیرمقدم کیا ہے۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر پشاور، سوات، شانگلہ، بٹ خیلہ، کوہاٹ اور چترال سمیت صوبے کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کے شہریوں نے بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے تنگ آئے ہوئے عوام نے وفاقی حکومت کے اس فیصلے کی خوشی میں مختلف جگہوں پر آتش بازی کی اور اسے باضابطہ طور پر یوم نجات کے طور پر منایا۔
پشاور، سوات اور دیگر علاقوں کے شہریوں کا کہنا تھا کہ صوبے میں گزشتہ حکومت کے دوران تمام تر ترقیاتی کام ٹھپ پڑے تھے اور وزیراعلیٰ صرف جلسے جلوسوں اور وفاق پر چڑھائی کی سیاست میں مصروف رہتے تھے۔
شہریوں نے کہا کہ یہ اقدام انتہائی خوش آئند ہے اور یہ کام کئی ماہ پہلے ہی ہو جانا چاہیے تھا تاکہ صوبے کے عوام کو 13 سالہ بدامنی، انتشار اور دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے حکمرانوں سے نجات مل سکے۔
سوات کے عوام نے نئے سیٹ اپ سے امیدیں وابستہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں خیبرپختونخوا بدحالی، مہنگائی اور بے روزگاری کے شدید بحران کا شکار رہا۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق حکومت کے کرپٹ رہنماؤں کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کی جائے اور ان کا بلاامتیاز احتساب کیا جائے۔






