مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث بحری راستوں کی بندش سے پاکستان میں آئندہ سردیوں کے دوران گیس کی قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
قطر سے ایل این جی کی سپلائی بحال نہ ہونے کی صورت میں ملک میں گیس کی طلب پوری کرنا وزارت پیٹرولیم کے لیے بڑا چیلنج بن سکتا ہے، جس کے باعث ونٹر گیس پلان کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔
ذرائع وزارت پیٹرولیم کے مطابق سردیوں کے دوران پاکستان کو مجموعی طور پر 21 ایل این جی کارگو درکار ہوں گے۔ قطر سے طویل المدتی معاہدے کے تحت ایل این جی کی سپلائی بحال نہ ہونے کی صورت میں طلب پوری کرنے کے لیے مہنگے اسپاٹ کارگو منگوانے کی تجویز زیر غور ہے۔
اسپاٹ ایل این جی کارگو کتنی مہنگی پڑے گی؟
ذرائع کے مطابق اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی کارگو کی قیمت تقریباً 30 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پڑتی ہے، جبکہ قطر کے ساتھ طویل المدتی معاہدے کے تحت ایل این جی کی قیمت تقریباً 13 سے 16 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے درمیان ہے۔
اس حساب سے اسپاٹ کارگو قطری ایل این جی کے مقابلے میں نمایاں طور پر مہنگا پڑسکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قطر سے سپلائی بحال نہ ہونے کی صورت میں اضافی کارگو خریدنے کی لاگت توانائی کے شعبے پر مالی دباؤ بڑھا سکتی ہے اور بالآخر صارفین کے لیے بھی اضافی بوجھ کا باعث بن سکتی ہے۔
سردیوں کی گیس طلب کا بڑا حصہ ایل این جی سے پورا ہوتا ہے
پاکستان سردیوں میں گیس کی طلب اور دستیاب مقامی سپلائی کے درمیان فرق کو پورا کرنے کے لیے ایل این جی پر انحصار کرتا ہے۔ وزارت پیٹرولیم کے ذرائع کے مطابق سردیوں میں گیس کی قلت کا تقریباً 40 فیصد ایل این جی کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے۔
اگر قطر سے معمول کے مطابق سپلائی دستیاب نہ ہوئی تو حکومت کو متبادل ذرائع سے ایل این جی حاصل کرنا پڑسکتی ہے۔ اس صورت میں عالمی مارکیٹ کی قیمتیں اور دستیاب کارگو کی لاگت پاکستان کے لیے اہم عوامل ہوں گے۔
ونٹر گیس پلان کی منظوری وفاقی حکومت دے گی
ذرائع کے مطابق وزارت پیٹرولیم ونٹر گیس پلان کو حتمی شکل دینے کے بعد منظوری کے لیے وفاقی حکومت کو پیش کرے گی۔ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد منصوبے پر عملدرآمد شروع کیا جائے گا۔
حکام کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہوگا کہ سردیوں میں گھریلو صارفین، صنعت اور دیگر شعبوں کی گیس ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ایل این جی کی اضافی لاگت کو بھی قابو میں رکھا جائے۔
قطری سپلائی کی بحالی اور بحری راستوں کی صورتحال آنے والے ہفتوں میں پاکستان کے موسم سرما کے گیس پلان کے لیے اہم قرار دی جارہی ہے۔ اگر سپلائی میں رکاوٹ برقرار رہی تو مہنگے اسپاٹ کارگو پر انحصار بڑھ سکتا ہے۔






