اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا تھا، صوبائی حکومت حالات قابو کرنے میں ناکام رہی، جس کے باعث ایمرجنسی نافذ کی گئی۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات عطاتارڑ کے ہمراہ غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کو خصوصی بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین ریاست کا ایک انتہائی بنیادی اور اہم ترین دستاویز ہے، جو نہ صرف ریاستی نظامِ حکومت کو چلانے کی سمت طے کرتا ہے بلکہ ہنگامی حالات اور چیلنجز سے نمٹنے کا طریقہ کار بھی متعین کرتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ 1973 کے آئین سمیت پاکستان کے تمام سابقہ آئینوں میں بھی غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے الگ الگ قانونی شقیں اور ہنگامی دفعات شامل رکھی گئی ہیں، جن کا استعمال ریاست کی سالمیت اور عوام کے تحفظ کے لیے ضرورت کے وقت کیا جاتا ہے۔
وزیر قانون نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کا مسئلہ کوئی حالیہ دنوں کا پیدا شدہ واقعہ نہیں ہے، بلکہ ہمارا ملک کئی دہائیوں سے اس کی لپیٹ میں ہے اور مسلسل دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں افغان جنگ کے بعد سے ہی اس پورے خطے میں دہشت گردی کے انتہائی منفی اور گہرے اثرات سامنے آتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود بھی پاکستانی قوم، سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے دہشت گردی کی اس طویل جنگ میں لازوال بہادری، شجاعت اور مسلسل قربانیوں کی عظیم مثالیں قائم کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کی بحالی کے لیے ریاستی کوششیں آج بھی پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری ہیں اور آئین کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے تاکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔






