معروف صحافی اور پاکستان عوام راج تحریک کے سربراہ اقرار الحسن کو سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مواد اور اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی پھیلانے کے مقدمے میں گرفتاری کے بعد کراچی کی عدالت نے 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے کر دیا۔
معروف صحافی، سابق اینکر اور پاکستان عوام راج تحریک کے بانی اقرار الحسن کی گرفتاری اور عدالت میں پیشی کا تفصیلی پس منظر سامنے آ گیا ہے۔
اقرار الحسن کے خلاف 10 اکتوبر 2026 کو کراچی کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر میں این سی سی آئی اے کے انسپکٹر محمد علی خان کی رپورٹ پر مقدمہ نمبر 101/2026 درج کیا گیا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ریاست، ریاستی اداروں اور ان کے اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف جھوٹا، من گھڑت، ہتک آمیز اور انتہائی اشتعال انگیز مواد نشر کیا، جس کا بنیادی مقصد عوام میں اداروں اور قانونی حکام کے خلاف نفرت و اشتعال پیدا کرنا تھا۔
اس مقدمے میں پیکا ایکٹ کی سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔ اقرار الحسن کو لاہور ڈیفنس میں واقع ان کی رہائش گاہ سے سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں نے تحویل میں لیا اور کراچی منتقل کیا۔
منگل کے روز اقرار الحسن کو کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ سماعت کے دوران عدالت نے ملزم سے پوچھا کہ کیا ان پر کوئی تشدد کیا گیا ہے، جس پر اقرار الحسن نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مارا پیٹا نہیں گیا، اور انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ابھی ان کا کوئی وکیل مقرر نہیں ہوا۔
این سی سی آئی اے نے تفتیش کے لیے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگا، مگر عدالت نے 4 روزہ ریمانڈ منظور کر دیا۔ واضح رہے کہ تحقیقاتی پروگرام ‘سرِعام’ سے شہرت پانے والے اقرار الحسن نے جنوری 2026 میں اپنی سیاسی جماعت ‘پاکستان عوام راج تحریک’ بنائی تھی اور اپریل 2026 میں میڈیا انڈسٹری سے وابستگی ختم کی تھی۔ فی الحال کیس کے تفتیشی افسر اسسٹنٹ ڈائریکٹر رانا محمد فیصل منیر ان کے سوشل میڈیا ڈیٹا کا جائزہ لے رہے ہیں۔






