وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ معاہدہ ہو جاتا تو ایمرجنسی نہیں لگتی، ہم میں سے کوئی نہیں چاہتا تھا کہ یہ صورتحال پیدا ہو۔
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ علامہ صاحب کا بہت احترام ہے، ان کی کئی جذباتی باتیں درست نہیں، اللہ تعالیٰ سب کا ہے، وہ بہتر جانتا ہے کہ اس کے قریب کون ہے، خیبرپختونخوا میں جو کچھ ہوا وہ 1973 کے آئین کے مطابق ہے، ماہرین سے پوچھ لیں کہ آئین کی کون سی خلاف ورزی ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے پہلے روز صرف دہشت گردی کے معاملے پر بات ہوئی، اسد قیصر نے پشاور جا کر بات کرنے کا کہا تھا، ایمرجنسی لگنے تک پی ٹی آئی رہنماؤں سے فون پر مشاورت کرتا رہا، ہم میں سے کوئی نہیں چاہتا تھا کہ یہ صورتحال پیدا ہو۔
محسن نقوی نے کہا کہ ہمارے جوان شہید ہو رہے تھے اور صوبائی حکومت کے لوگ وہاں نہیں آ رہے تھے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا شہدا کے حوالے سے نامناسب تقاریر کر رہے ہوتے تھے، مذاکراتی ڈرافٹ میں تین مرتبہ تبدیلیاں کی گئیں، ہم نے ایک ایک بات تسلیم کی، مذاکرات میں چھ مرتبہ تبدیلیاں مان کر ڈرافٹ بھیجا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ مذاکراتی ڈرافٹ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو بھیجا گیا تو انہوں نے مراد سعید کو بھیج دیا، مراد سعید کون تھا جو مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کر رہا تھا؟ اسد قیصر نے مذاکرات میں بہت اچھا کام کیا، اسد قیصر مذاکراتی نکات پر عملدرآمد کے لیے تیار تھے، اسد قیصر سے کہا وزیراعلیٰ کو مذاکرات میں بلائیں یا ان کا کوئی نمائندہ لے آئیں۔






