وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ کے پی حکومت کے ساتھ چلنے کی ہرممکن کوشش کی لیکن یہ لوگ ابھی تک ڈی چوک سے باہر نہیں نکلے۔
مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اجلاس میں شرکت پر تمام ارکان کا مشکور ہوں، خیبرپختونخوا میں پچھلے چند مہینوں سے صورتحال انتہائی خراب اور دلخراش تھی، خیبرپختونخوا انتہائی خوبصورت ہے،یہاں کے عوام بہادر ہیں، صوبے کے عوام نے دہشتگردی کےخلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امیر مقام اور بلور خاندان نے قربانیاں دی ہیں، صوبے میں سیکیورٹی فورسز کے اہلکار اور عام شہری شہید ہورہے ہیں، چاہتے ہیں خیبرپختونخوا میں دہشتگردی اور بے روزگاری کا خاتمہ ہو، اڑھائی سال میں ہر ممکن کوشش کی کہ معاملات بہتر کیے جائیں، پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت ترقی کے سفر کو روکنے پر تلی ہوئی تھی۔
شہباز شریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ چلنے کی ہرممکن کوشش کی، پی ٹی آئی حکومت آنے کے بعد سوات میں دوبارہ دہشتگرد آنے شروع ہوئے، غربت،بے روزگاری اور قرضوں کے خاتمے کے لیے کوششیں کررہے ہیں، یہ لوگ آج تک ڈی چوک سے باہر نہیں نکلے۔
وزیراعظم نے کہا کہ صوبے میں سی ٹی ڈی کو مضبوط بنانے کے بجائے دھرنے،گالم گلوچ کو فروغ دیاگیا، عوام کی قربانیوں کی وجہ سے دہشت گردی کا خاتمہ کردیاتھا، 2013 اور 2014 میں انہوں نے ڈی چوک پر گندے کپڑے دھوئے،قبریں کھودیں۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران بار بار مسودے کو تبدیل کیا گیا، جس کے بعد وفاقی کابینہ نے باہمی مشاورت سے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت آئینی اقدام کرنے کا فیصلہ کیا، گورنر خیبرپختونخوا کی معاونت اور مشاورت کے لیے تکنیکی ماہرین پر مشتمل 11 رکنی کونسل قائم کی گئی ہے۔






