وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لائیو اسٹاک کارڈ فیز 2 کا افتتاح کر دیا، جس کے تحت فارمرز کو مجموعی طور پر 16 ارب 20 کروڑ روپے کے بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ پروگرام کے تحت فی مویشی 27 ہزار روپے کی مالی معاونت بھی مختص کی گئی ہے۔
افتتاحی تقریب کے دوران دی گئی بریفنگ میں لائیو اسٹاک کارڈ کے پہلے مرحلے کی کارکردگی کا جائزہ بھی پیش کیا گیا۔ بریفنگ کے مطابق فیز 1 کے تحت فراہم کیے گئے قرضوں کی واپسی کی شرح 96 فیصد رہی، جو پروگرام میں قرضوں کی واپسی کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔
فارمرز کو قرض کی رقم کا کچھ حصہ نقد مل سکے گا
لائیو اسٹاک کارڈ فیز 2 کے تحت فارمرز قرض کی رقم کا 25 فیصد حصہ اے ٹی ایم کے ذریعے نقد حاصل کر سکیں گے۔ اس سہولت سے مویشی پالنے والے افراد کو ضروری اخراجات پورے کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
پروگرام کے ذریعے لائیو اسٹاک کے شعبے میں مالی معاونت فراہم کرنے اور فارمرز کی ضروریات پوری کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ بلاسود قرضوں سے مویشی پالنے والے افراد کو اپنے کاروبار سے متعلق اخراجات کے لیے سرمایہ دستیاب ہو سکے گا۔
پنجاب کی گوشت کی برآمدات میں اضافہ
بریفنگ میں بتایا گیا کہ سعودی عرب، چین، آذربائیجان اور یورپی منڈیوں میں گوشت کی برآمدات کے لیے معاہدے کیے گئے ہیں۔ پنجاب کی گوشت کی برآمدات میں ایک سال کے دوران 9 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔
گوشت کی برآمدات میں اضافے سے لائیو اسٹاک کے شعبے میں کاروباری سرگرمیوں اور فارمرز کے لیے منڈیوں تک رسائی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ بین الاقوامی منڈیوں میں برآمدات کو مزید فروغ دینے کے لیے معیار، جانوروں کی صحت، خوراک کی حفاظت اور برآمدی ضوابط پر عمل درآمد بھی اہم ہوگا۔
لائیو اسٹاک کارڈ فیز 2 کے تحت بلاسود قرضوں کی فراہمی اور برآمدی منڈیوں تک رسائی کے اقدامات پنجاب میں مویشی پالنے کے شعبے کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ پروگرام کے اثرات کا اندازہ قرضوں کی مؤثر تقسیم، فارمرز کی آمدن اور برآمدات میں ہونے والی آئندہ پیش رفت سے لگایا جا سکے گا۔






