وزیراعظم سے ایم کیو ایم پاکستان کے وفد نے اہم ملاقات کی، جس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے فیصلے، دہشت گردی کے خطرات اور ممکنہ پناہ گاہوں پر سندھ سے انٹیلی جنس شیئرنگ پر اتفاق کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور ایم کیو ایم پاکستان کے وفد کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات کا اندرونی احوال سامنے آگیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ایم کیو ایم وفد کو بتایا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ سیکیورٹی حالات کے پیشِ نظر کیوں ناگزیر تھا۔
وفاقی وزراء نے ایم کیو ایم رہنماؤں کو خیبر پختونخوا میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے وفد کو یقین دلایا کہ ملک بھر سے دہشت گردی کو ختم اور دہشت گردوں کا مکمل قلع قمع کیا جائے گا۔
ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے کہا کہ حکومت نے ایک بڑی ذمہ داری اٹھائی ہے اور وہ دعا گو ہیں کہ اس میں کامیابی ملے، ایم کیو ایم دہشت گردی کے خلاف ہمیشہ کھڑی رہی ہے۔
ملاقات کے دوران ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے وزیراعظم سے گفتگو کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ خیبر پختونخوا میں آپریشن کی صورت میں دہشت گرد وہاں سے فرار ہو کر کراچی سمیت دیگر شہروں کا رخ کر سکتے ہیں۔
ایم کیو ایم نے مطالبہ کیا کہ دیگر جگہوں پر پناہ لینے والے دہشت گردوں اور ان کی منظم پناہ گاہوں کو نشانہ بنانے کا پلان بھی واضح کیا جائے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزراء نے ایم کیو ایم کے ان خدشات سے اتفاق کیا۔ وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ اس سلسلے میں سندھ حکومت سے بات کی جائے گی تاکہ اٹھارہ سال سے قائم صوبائی حکومت سے پوچھا جائے کہ وہ کیا اقدامات کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت سے انٹیلی جنس شیئرنگ بڑھانے، اداروں میں کوآرڈینیشن مضبوط کرنے اور دہشت گردوں کی ممکنہ پناہ گاہوں کی سرویلنس سخت کرنے کی ہدایت کی جائے گی۔






