تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
پاکستان

ڈیرہ اسماعیل خان میں فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق افراد کی تعداد 8 ہو گئی

ڈیرہ اسماعیل خان

ڈیرہ اسماعیل خان میں مہمانِ خصوصی پر فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق افراد کی تعداد 8 ہو گئی ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے ملانہ میں گرلز اسکول کے قریب مسلح افراد کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 8 ہو گئی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا، جب ملانہ میں منعقدہ والی بال میچ کے مہمانِ خصوصی اور ان کے ساتھی میچ کے اختتام پر واپس جا رہے تھے۔ فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد میں قدرت، عمر فاروق، شفیق، اجمل اور ارسلان سمیت 8 افراد شامل ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے تمام افراد کا تعلق ہیبت خان گروپ سے ہے۔ فائرنگ کے واقعے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جنہیں فوری طور پر علاج کے لیے ڈسٹرکٹ اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

واقعے کے حوالے سے ڈی پی او ضیاء الدین احمد نے بتایا کہ فائرنگ کا یہ واقعہ دیرینہ ذاتی اور سیاسی رنجش کا شاخسانہ ہے۔ والی بال میچ کے بعد واپسی پر دو مخالف گروپوں کا آمنا سامنا ہوا، جس کے بعد دونوں جانب سے فائرنگ شروع ہو گئی۔

پولیس کے مطابق تھانہ یونیورسٹی کی ٹیموں نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔