اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات آخری مرحلے میں طے پا چکے تھے، لیکن بیرسٹر گوہر کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، باہر سے ملنے والی ہدایات کے باعث معاہدہ آخری لمحے میں ختم ہو گیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کے خطاب کا جواب دیتے ہوئے ایوان کو مذاکرات سے آگاہ کیا۔
ایاز صادق نے بتایا کہ جب حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات جاری تھے تو حکومت کا وفد اسپیکر چیمبر میں موجود تھا، جبکہ تحریک انصاف کے رہنما ساتھ والے ریسٹنگ روم میں بیٹھے ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ماحول انتہائی خوشگوار تھا اور تمام لوگ اس بات پر خوشیاں منا رہے تھے کہ فریقین کسی بہتری کی طرف بڑھ رہے ہیں اور معاہدہ ابھی سائن ہونے ہی والا ہے۔
اسپیکر نے انکشاف کیا کہ اس کے بعد علامہ ناصر عباس اندر آئے اور انہوں نے انتہائی افسردہ لہجے میں کہا کہ انہیں بہت افسوس ہے کہ آج وہ معاہدہ نہیں کر سکے اور وہ افسردہ ہو کر جا رہے ہیں۔ اس کے بعد راجہ صاحب اور دیگر رہنما بھی وہاں سے چلے گئے۔
ایاز صادق کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس وقت بھی اصرار کیا تھا کہ مذاکرات کے راستے کو بند مت کیا جائے، جس پر نوید قمر، سینیٹر شیری رحمان، رانا ثناء اللہ، امیر مقام اور اعجاز جکرانی بھی گواہ ہیں۔ جب بیرسٹر گوہر واپس آئے تو انہوں نے بھی اس بات کی تائید کی کہ مذاکرات کا یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے، لیکن اصل مسئلہ یہ تھا کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور وہ اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار نہیں رکھتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے رہنما جو مینڈیٹ لے کر آئے تھے اس کے تحت انہیں خود فیصلے کرنے چاہئیں تھے، لیکن انہوں نے جب باہر بیٹھے افراد سے مشاورتی رابطہ کیا تو اس کا جو بھی نتیجہ نکلا وہ سب کے سامنے ہے۔
اسپیکر ایاز صادق نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ کے نام کے نیچے اس بابرکت ایوان میں سب بیٹھے ہیں، اس لیے وہی بات کہی جانی چاہیے جو سچی اور درست ہو۔
انہوں نے بیرسٹر گوہر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جیل کے سیل میں ٹوتھ پیسٹ اندر نہیں جانے دیا جاتا اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ سیل میں گٹر کھلے ہیں جو انہیں گیسز اور فیومز کی وجہ سے گھٹن میں مبتلا کر رہے ہیں۔
اس پر ایاز صادق نے واضح کیا کہ انہوں نے ایوان میں عمران خان کو ملنے والے ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانوں کی تفصیلات، چیا سیڈز، ملک شیک، کمروں کی تعداد اور ان سے ملنے والے افراد کی مکمل لسٹیں سب کے سامنے رکھ دی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومت نے ان کا ساتھ دیا تبھی وہ یہ تمام حقائق سامنے لا پائے۔






