خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں نئے انتظامی نظام کے تحت علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل کے عوامی ارکان کے انتخاب کا مشاورتی عمل شروع ہوگیا ہے۔ اس مقصد کے لیے مقامی قبائلی روایات اور جرگہ نظام کے تحت عمائدین سے مشاورت کی جا رہی ہے تاکہ علاقے کی نمائندگی کرنے والے افراد کا انتخاب کیا جاسکے۔
14 اکتوبر کو شمالی وزیرستان، خیبر، بنوں، مہمند اور ٹل، ضلع کرم میں کونسل کے ارکان کے انتخاب کے لیے جرگے منعقد کیے گئے۔ ان اجتماعات میں ملک و مشران، علمائے کرام، قبائلی عمائدین اور تاجروں نے شرکت کی، جہاں علاقے کے امن و امان، سیکیورٹی صورت حال اور عوامی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ضلعی انتظامیہ کے زیر اہتمام ہونے والے ان جرگوں میں مقامی آبادی کی خواہشات، قبائلی روایات اور باہمی مشاورت کو اہمیت دی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق آئندہ دو روز کے دوران خیبرپختونخوا کے دیگر متعلقہ اضلاع میں بھی ارکان کے انتخاب کا عمل مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔
نئے انتظامی نظام کے تحت 12 اضلاع سے دو، دو قبائلی عمائدین یا ملک منتخب کیے جائیں گے، جس کے نتیجے میں 24 رکنی علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل تشکیل پائے گی۔
مجوزہ کونسل کا بنیادی مقصد مقامی آبادی کو مؤثر نمائندگی فراہم کرنا اور عوامی ضروریات کو انتظامی اداروں تک پہنچانے کے لیے ایک مشاورتی پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے۔
کونسل مقامی ضروریات کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کی نشاندہی کرے گی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے متعلقہ حکام کو تجاویز پیش کرے گی۔
اس طریقہ کار کے ذریعے مقامی سطح پر درپیش مسائل اور ترقیاتی ترجیحات کو انتظامی فیصلوں میں شامل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
جرگوں میں شریک قبائلی عمائدین نے نئے انتظامی نظام پر اعتماد کا اظہار کیا اور علاقے میں پائیدار امن و استحکام کے قیام، عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے سرکاری اداروں اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون برقرار رکھنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔






