غیر ملکی صحافی کیٹلن جورڈن باس نے خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دور حکومت کی سیکیورٹی پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج، یعنی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، کے خلاف اقدامات کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔
کیٹلن جورڈن باس کے بیان کے مطابق پی ٹی آئی کے دور میں خیبرپختونخوا میں دہشت گرد حملے ہوتے رہے، تاہم ان کے بقول اس خطرے کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔
انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی حکومت کی جانب سے افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی نہ کیے جانے پر بھی تنقید کی۔
صحافی نے فتنہ الخوارج کی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ گروہ افغانستان کی سرزمین سے خیبرپختونخوا سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں حملے کر رہا ہے۔
ان کے بیان میں ستمبر کے دوران پاکستان کی جانب سے افغانستان میں ایسے دہشت گرد عناصر کو نشانہ بنانے کا بھی ذکر ہے جو پاکستان پر حملوں میں ملوث تھے۔
کیٹلن جورڈن باس کے مطابق پاکستان کی جانب سے بار بار مطالبات کے باوجود افغان طالبان نے اپنی سرزمین استعمال کرنے والے دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی سے انکار کیا۔ یہ مؤقف پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان سیکیورٹی معاملات پر جاری اختلافات کی عکاسی کرتا ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین سے منسوب تجزیے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے افغان طالبان کے حوالے سے اختیار کردہ پالیسی نے خیبرپختونخوا میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے لیے مشکلات پیدا کیں۔ اس رائے میں دہشت گردی کے خطرات اور افغان سرزمین سے ہونے والی مبینہ کارروائیوں کے تناظر میں سابقہ پالیسی کا جائزہ لینے پر زور دیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا معاملہ متعدد عوامل سے جڑا ہے، جن میں سرحد پار عسکریت پسندی، مقامی سیکیورٹی صورت حال، سرحدی نگرانی اور پاکستان و افغانستان کے تعلقات شامل ہیں۔ کسی مخصوص حکومت کی پالیسی کے اثرات کا تعین کرنے کے لیے اس دور کے حملوں کے اعداد و شمار، انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں، مذاکرات اور متعلقہ سرکاری ریکارڈ کا تقابلی جائزہ ضروری ہے۔
فراہم کردہ معلومات میں صحافی اور ماہرین سے منسوب آرا شامل ہیں، تاہم ان کے تمام نکات کی آزادانہ تصدیق کے لیے مزید شواہد درکار ہیں۔ اس معاملے پر سابقہ حکومت، متعلقہ حکام اور دیگر فریقوں کا مؤقف بھی مجموعی تصویر واضح کرنے میں اہم ہوگا۔






