گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبائی پولیس کی تنخواہیں بہتر بنانے، نفری کی کمی دور کرنے اور دہشت گردی میں جاں بحق اہلکاروں کے خاندانوں کے لیے مالی معاونت بڑھانے کے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلانات گورنر ہاؤس پشاور میں پولیس شہداء کے ورثاء میں پلاٹوں کے الاٹمنٹ لیٹرز تقسیم کرنے کی تقریب کے دوران کیے گئے۔
تقریب میں 54 پولیس شہداء کے خاندانوں کو پلاٹوں کے الاٹمنٹ لیٹرز دیے گئے۔ اس موقع پر پولیس اہلکاروں کی خدمات اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں جانیں قربان کرنے والے اہلکاروں کے خاندانوں کی معاونت پر توجہ دی گئی۔
فیصل کریم کنڈی نے پولیس کی تنخواہوں کے حوالے سے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس کے اہلکاروں کی تنخواہیں دیگر صوبوں کے مقابلے میں بہتر ہونی چاہئیں۔ ان کے مطابق پولیس نفری کی کمی دور کرنے کے لیے خالی آسامیوں پر بھرتیوں کا عمل تیز کیا جائے گا۔
تقریب کے دوران دہشت گردی میں جاں بحق پولیس اہلکاروں کے اہلخانہ کے لیے خصوصی مالی معاونت پیکج اور شہداء کی بیٹیوں کی شادی کے لیے خصوصی گرانٹ کا اعلان بھی کیا گیا۔ ان اقدامات کا مقصد فرض کی ادائیگی کے دوران جانیں قربان کرنے والے اہلکاروں کے خاندانوں کو مالی سہارا فراہم کرنا ہے۔
خیبرپختونخوا پولیس کو طویل عرصے سے دہشت گردی کے خطرات اور سیکیورٹی سے متعلق چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ ایسے حالات میں اہلکاروں کی تنخواہوں، بھرتیوں، تربیت، وسائل اور شہداء کے خاندانوں کی معاونت کو پولیس کی مجموعی استعداد سے متعلق اہم معاملات سمجھا جاتا ہے۔
تقریب میں انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید، چیف سیکرٹری، پولیس افسران، ایڈوائزری کونسل کے ارکان اور شہداء کے ورثاء نے شرکت کی۔
اعلانات کے مطابق پولیس کی تنخواہوں میں بہتری، خالی آسامیوں پر بھرتیوں اور شہداء کے خاندانوں کے لیے خصوصی مراعات پر توجہ دی جائے گی۔ تاہم تنخواہوں میں اضافے کی حتمی شرح، بھرتیوں کی تعداد، مالی معاونت پیکج کی رقم اور شادی گرانٹ کی تفصیلات فراہم کردہ معلومات میں شامل نہیں ہیں۔ ان اقدامات کے عملی نفاذ سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے پر ان کی مالی اور انتظامی صورت حال واضح ہوسکے گی۔






