سابق وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید کی طویل روپوشی کے بعد افغانستان کے صوبے پکتیکا میں موجودگی سے متعلق اہم اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق مراد سعید افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے اہم کمانڈروں کے ساتھ مقیم ہیں اور وہاں سے خیبر پختونخوا کے سیاسی و احتجاجی معاملات کی نگرانی کررہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مراد سعید پکتیکا میں ٹی ٹی پی کمانڈر قاری زلمے محسود کے ٹھکانے پر موجود ہیں۔ انہیں مبینہ طور پر کمانڈر اسد اللہ وزیر کی سیکیورٹی بھی حاصل ہے، جبکہ ٹی ٹی پی کے مقامی کمانڈر میران شاہ شنواری کے ساتھ بھی ان کے مسلسل رابطے برقرار ہیں۔
اطلاعات کے مطابق مراد سعید کی افغانستان میں موجودگی محض قیام تک محدود نہیں، بلکہ وہ پکتیکا سے خیبر پختونخوا میں سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجی معاملات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان سرگرمیوں کی نوعیت اور مبینہ رابطوں کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
ذرائع کی جانب سے یہ سنگین الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ مراد سعید مبینہ طور پر خارجی زلمے محسود کو خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملوں کے اہداف کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تاہم اس الزام کی آزادانہ تصدیق کے لیے شواہد یا متعلقہ حکام کا باضابطہ مؤقف دستیاب نہیں، اس لیے اسے تصدیق شدہ حقیقت کے بجائے منسوب اطلاع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
مراد سعید کی مبینہ موجودگی، ٹی ٹی پی کمانڈروں سے روابط اور خیبر پختونخوا میں سیاسی و سیکیورٹی معاملات سے متعلق ان اطلاعات پر متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنا اہم ہوگا۔






