پنجاب حکومت نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے قوانین میں بڑی ترامیم منظور کرلی ہیں، جن کے تحت پلاٹ مالکان کو تحفظ فراہم کرنے اور غیر قانونی ترقیاتی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کے لیے نئے اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔
منظور شدہ ترامیم کے مطابق نجی ہاؤسنگ سوسائٹی اب الاٹی کو پیشگی دو نوٹس بھیجے بغیر اس کا پلاٹ منسوخ نہیں کرسکے گی۔ پلاٹ کی منسوخی سے پہلے الاٹی کو ہاؤسنگ سوسائٹی مینجمنٹ سسٹم اور رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعے مطلع کرنا ضروری ہوگا۔
ترمیم شدہ طریقہ کار کے تحت ڈیولپمنٹ چارجز کی عدم ادائیگی پر بھی فوری طور پر پلاٹ منسوخ نہیں کیا جاسکے گا۔ منسوخی کی کارروائی سے پہلے کم از کم دو نوٹس جاری کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔
قوانین میں غیر مجاز ترقیاتی کام کرنے والی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے لیے جرمانوں کی شقیں بھی شامل کی گئی ہیں۔ ایسی سوسائٹیوں کو خلاف ورزی کی نوعیت کے مطابق روزانہ 5 ہزار سے 20 ہزار روپے تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
ترامیم میں کم لاگت والی ہاؤسنگ اسکیموں کے رہائشی پلاٹوں کے زیادہ سے زیادہ رقبے کی حد بھی مقرر کی گئی ہے، جس کے تحت پلاٹ کا سائز پانچ مرلہ تک محدود ہوگا۔
ہاؤسنگ اسکیموں کے معاملات کی نگرانی کے لیے سات رکنی کمیٹی تشکیل دینے کی شق بھی شامل ہے۔ کمیٹی میں رہائشیوں کے چار نمائندے اور منصوبے کے اسپانسر کے تین نمائندے شامل ہوں گے۔
ان تبدیلیوں کا مقصد پلاٹ الاٹیز کے حقوق کا تحفظ، ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے انتظامی معاملات میں ضابطہ بندی اور غیر قانونی ترقیاتی سرگرمیوں کی روک تھام بتایا گیا ہے۔






