تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
پاکستان

پشاور اسکول سانحہ؛ ملوث دیگر افراد کے خلاف بھی کارروائی ہوگی، گورنر کے پی

پشاور میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ دیر کالونی اسکول سانحے میں گرفتار اسکول مالک کے علاوہ ملوث دیگر افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

گورنر خیبر پختونخوا متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کے لیے دیر کالونی پہنچے اور اسکول سانحے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک نے کئی سانحات دیکھے ہیں لیکن یہ انتہائی بڑا سانحہ ہے، کسی خاندان کی اولاد اور بچہ واپس نہیں آسکتا۔

فیصل کریم کنڈی کے مطابق سانحے میں جاں بحق ہونے والے ہر بچے کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو 3،3 لاکھ روپے امداد دی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ اسکول کے معاہدے اور لیز سے متعلق تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ سرکاری اور نجی اسکولوں کو این او سی جاری کرنے کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا جبکہ 15 دن میں ذمہ داری کا تعین کرکے سزا و جزا کا عمل تیز کیا جائے گا۔

گورنر کے مطابق صوبے میں سرکاری اور نجی اسکولوں کا آڈٹ بھی جاری ہے۔ اسکول کی این او سی سے متعلق ریکارڈ موجود ہونے کا بھی ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسکولوں سے متعلق قانون 2017 میں بنایا گیا تھا اور بچوں کے معاملے میں غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ سرکاری اسکولوں کی مانیٹرنگ کے لیے 15 دن کا وقت رکھا گیا ہے۔ نجی اسکولوں کی انسپکشن رپورٹ پانچ دن جبکہ سرکاری اسکولوں کی رپورٹ 7 سے 10 دن میں تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے وزارت قانون کو 15 روز میں متعلقہ قانون سازی کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کا بھی ذکر کیا۔

سابق حکومت میں ہونے والی مبینہ کرپشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ شواہد ملنے پر متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی ہوگی اور رپورٹ کی تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔