تحریک تحفظ پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہوئی اور پشاور میں آمد کا مقصد صوبے کے عوام سے اظہار یکجہتی ہے۔
پشاور ہائی کورٹ کے باہر خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اسلام آباد سے پشاور آئے ہیں اور صوبے کے ساتھ ہونے والی صورت حال پر عوام کے دکھ درد میں شریک ہیں۔ ان کے مطابق 4 کروڑ افراد کی نمائندگی کرنے والی حکومت کو ختم کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بندوق اور پیسے کے زور پر اقتدار پر قبضہ کیا گیا، انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کا انتخابی نشان ختم کیا گیا اور اسمبلی سے پی ٹی آئی کے 97 سے زائد ارکان کو نکالا گیا۔ انہوں نے عدالتی فیصلوں اور سزاؤں پر بھی اعتراضات اٹھائے۔
محمود خان اچکزئی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مذاکرات کی دعوت دی اور کہا کہ قومی پالیسیوں کی تشکیل منتخب پارلیمنٹ کے ذریعے ہونی چاہیے۔
عمران خان سے ملاقات پر پابندی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں قیدیوں سے ملاقاتوں کے حوالے سے ایسی پابندیاں نہیں ہوتیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے وسائل پر مقامی لوگوں کے حق کی بات بھی کی۔
اس موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں منتخب حکومتوں کو ختم کیا گیا۔ انہوں نے گورنر راج اور ماضی کے فوجی آپریشنز پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے بلوچستان میں امن قائم نہیں ہوسکا اور صوبہ بدستور بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔
اختر مینگل نے کرپشن کے الزامات پر کارروائی نہ ہونے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ موجودہ صورت حال اسی انداز میں مزید جاری نہیں رہ سکتی۔






