بلوچستان میں فتنہ الہندوستان سے وابستگی ترک کرنے والے نوجوان گل شیر نے سکیورٹی فورسز کے سامنے سرنڈر کرکے قومی دھارے میں واپسی اختیار کرلی۔
پریس کانفرنس کے دوران گل شیر نے کالعدم تنظیم میں شمولیت کے پس منظر اور نوجوانوں کو تنظیم کا حصہ بنانے کے طریقوں سے متعلق اہم تفصیلات بیان کیں۔
گل شیر کے مطابق، انہیں روزگار فراہم کرنے کا جھانسہ دے کر بی ایل اے کے کیمپ تک پہنچایا گیا۔ وہاں تنظیم میں شمولیت سے انکار کرنے پر انہیں دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے بیان کے مطابق نوجوانوں کو روزگار اور بہتر مستقبل کی امید دلا کر تنظیم کی سرگرمیوں میں شامل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
گل شیر نے نوجوانوں کو خبردار کیا کہ وہ کالعدم تنظیموں کے وعدوں اور ترغیبات سے محتاط رہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایسی تنظیموں کا مقصد بلوچ نوجوانوں کو گمراہ کرکے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔
انہوں نے کالعدم تنظیموں کو پاکستان کا دشمن قرار دیتے ہوئے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ان کے جھانسے میں آنے کے بجائے پرامن زندگی اختیار کریں اور قومی دھارے کا حصہ بنیں۔
بلوچستان میں نوجوانوں کو شدت پسند تنظیموں سے دور رکھنے اور انہیں معاشرے میں دوبارہ شامل کرنے کی کوششیں سکیورٹی اور سماجی سطح پر اہمیت رکھتی ہیں۔ گل شیر کا بیان بھی اسی تناظر میں سامنے آیا ہے، تاہم ان کے بیان میں بیان کردہ واقعات کی آزادانہ تصدیق کے لیے مزید معلومات دستیاب نہیں۔






