تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
پاکستان

گزشتہ 3 سال میں 13 ہزار 922 اسلحہ لائسنس جاری، وزارت داخلہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش

پاکستان میں گزشتہ تین سال کے دوران 13 ہزار 922 اسلحہ لائسنس جاری کیے گئے، وزارت داخلہ نے تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دیں۔

وزارت داخلہ کی رپورٹ میں ملک بھر میں اسلحہ لائسنسوں کے اجراء سے متعلق اہم اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وزارت داخلہ نے ممنوعہ اور غیر ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنسوں کی تفصیلات پیش کیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین سال میں مجموعی طور پر 13 ہزار 922 اسلحہ لائسنس جاری کیے گئے۔

دستاویزات کے مطابق جاری کیے گئے لائسنسوں میں زیادہ تعداد غیر ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنسوں کی تھی۔ ان کی تعداد 11 ہزار سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 2 ہزار 770 ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس بھی جاری کیے گئے۔ ممنوعہ بور کے لائسنس حساس نوعیت کے ہوتے ہیں، اس لیے ان کے اجراء کا معاملہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔

وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار میں سالانہ بنیادوں پر لائسنسوں کی تعداد بھی بتائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق 2024 میں 3 ہزار 151 اسلحہ لائسنس جاری کیے گئے۔ اس کے بعد 2025 میں 3 ہزار 125 لائسنسوں کا اجراء ہوا۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں سالوں میں جاری کیے گئے لائسنسوں کی تعداد تقریباً یکساں رہی، تاہم 2025 میں یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں کچھ کم تھی۔

اسلحہ لائسنسوں کے اجراء سے متعلق یہ تفصیلات قومی اسمبلی میں ارکان کے سوالات کے جواب میں پیش کی گئیں۔ وزارت داخلہ کی رپورٹ میں ممنوعہ اور غیر ممنوعہ بور کے لائسنسوں کی الگ الگ تعداد بتائی گئی، جس سے اس معاملے کی مزید تفصیلات سامنے آئیں۔

رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد قومی اسمبلی میں اس موضوع پر مختلف پہلوؤں سے بحث بھی ہوئی۔ اسلحہ لائسنسوں کی تعداد، ان کے اجراء اور متعلقہ قواعد سے متعلق معاملات ایوان کی توجہ کا مرکز رہے۔ تاہم دستیاب تفصیلات میں 2023 کے اعداد و شمار اور لائسنس جاری کرنے کے تفصیلی معیار کی وضاحت نہیں کی گئی۔

وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار ملک میں اسلحہ لائسنسوں کے اجراء کی مجموعی صورت حال کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس معاملے میں مکمل صورت حال جاننے کے لیے سال وار تفصیلات، لائسنسوں کی مختلف اقسام اور ان کے اجراء کے طریقہ کار سے متعلق مزید معلومات بھی اہم ہوں گی۔