تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
پاکستان

آپریشن ردالفتنہ 3، چاغی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، دو مطلوب دہشت گرد جہنم واصل

ضلع بنوں

بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت ضلع چاغی کے علاقے دالبندین میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کی گئی، جس کے دوران دو مطلوب دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ ہلاک ہونے والے افراد کوئٹہ۔تفتان شاہراہ پر مسافروں کو ہراساں کرنے اور علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے کی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

ذرائع کے مطابق ہلاک دہشت گرد شاہراہ پر تجارتی گاڑیوں اور مسافر بسوں کو نذرِ آتش کرکے نقل و حرکت میں رکاوٹیں پیدا کرنے اور ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے میں بھی ملوث رہے تھے۔

کوئٹہ۔تفتان شاہراہ بلوچستان میں آمدورفت اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے اہم راستہ ہے۔ اس شاہراہ پر مسافروں اور تجارتی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے واقعات نہ صرف شہریوں کی سلامتی کے لیے خطرہ بنتے ہیں بلکہ کاروباری سرگرمیوں اور سامان کی ترسیل کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔

سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہیں گی۔