تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
پاکستان

پاک چین دفاعی تعاون میں اہم پیشرفت، سنکیانگ میں مشترکہ فوجی مشق قراقرم 2026 شروع

پاک چین مشترکہ فوجی مشق قراقرم 2026

پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تعاون کے سلسلے میں پہلی مشترکہ فوجی مشق ’’قراقرم 2026‘‘ چین کے صوبے سنکیانگ میں شروع ہوگئی ہے۔

مشق کی افتتاحی تقریب سنکیانگ کے شہر کورلا میں منعقد ہوئی، جس میں دونوں ممالک کی افواج کی جانب سے انسداد دہشت گردی اور مشترکہ آپریشنل صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر توجہ دی جارہی ہے۔

مشترکہ فوجی مشق میں ڈرون آپریشنز، دورانِ حرکت اہداف کی تلاش اور فائرنگ کی خصوصی تربیت شامل ہے۔ اس کے علاوہ طویل فاصلے سے نشانہ بازی، مشترکہ کمانڈ اور عملی جنگی مشقیں بھی تربیتی پروگرام کا حصہ ہیں۔

مشق کے دوران پاکستان اور چین کی افواج کو انسداد دہشت گردی کے تجربات کے تبادلے کا موقع مل رہا ہے۔ پریس ریلیز کے مطابق پاک فوج کے جوانوں نے چینی ہتھیاروں کا بھی مشاہدہ کیا، جس سے دونوں ممالک کے فوجی نظام اور عملی طریقہ کار کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

قراقرم 2026 کا بنیادی مقصد انسداد دہشت گردی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون بڑھانا اور دونوں افواج کے درمیان عملی ہم آہنگی کو مضبوط بنانا ہے۔ مشترکہ تربیت کے ذریعے اہلکاروں کو مختلف آپریشنل حالات میں رابطہ کاری، اہداف کی شناخت اور مربوط کارروائیوں کی مشق کا موقع ملتا ہے۔

پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تعلقات دونوں ممالک کی اسٹریٹجک شراکت داری کا اہم حصہ ہیں۔ مشترکہ فوجی مشقوں کو تربیتی تجربات کے تبادلے اور سکیورٹی تعاون میں بہتری کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔