تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
پاکستان

پی ٹی آئی حکومت میں معدنیاتی لائسنس 482 سے بڑھ کر ہزاروں تک کیسے پہنچ گئے؟ خواجہ آصف نے تمام راز فاش کردیئے

ایمرجنسی

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ قیام پاکستان سے 2010 تک خیبر پختونخوا میں صرف 482 معدنیاتی لائسنس جاری کیے گئے، تاہم پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتوں کے دور میں ان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

ان کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، صوبے میں اب تک مجموعی طور پر 4,917 معدنیاتی لائسنس جاری ہو چکے ہیں۔

خواجہ آصف کے مطابق، 2020 تک خیبر پختونخوا میں معدنیاتی لائسنسز کی تعداد بڑھ کر 1,760 ہو گئی تھی، جبکہ فروری 2024 تک یہ تعداد 3,962 تک پہنچ گئی۔ موجودہ مجموعی تعداد 4,917 بتائی گئی ہے، جن میں سے 4,133 لائسنس آباد اضلاع اور 784 ضم شدہ اضلاع میں جاری کیے گئے۔

وفاقی وزیر دفاع نے معدنیاتی لائسنسز کے اجرا میں عسکری اداروں کے کردار سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پورے عرصے میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کو صرف ایک معدنیاتی لائسنس جاری کیا گیا۔ یہ لائسنس 2015 میں شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں دیا گیا تھا، جہاں ایف ڈبلیو او تعمیراتی اور بحالی کے کاموں میں مصروف رہا۔

خواجہ آصف کے مطابق، خیبر پختونخوا میں 500 سے زائد نئی معدنیاتی لائسنس درخواستیں زیر غور ہیں، تاہم ان میں سے کوئی بھی درخواست کسی عسکری ادارے کی جانب سے جمع نہیں کرائی گئی۔

وفاقی وزیر دفاع نے اپنے بیان میں معدنیاتی لائسنسز کے اجرا کی مجموعی تعداد میں اضافے کو پی ٹی آئی کے صوبائی دورِ حکومت سے جوڑتے ہوئے کہا کہ لائسنسز کی بڑی تعداد اسی عرصے میں جاری ہوئی۔

خیبر پختونخوا کے معدنیاتی وسائل اور لائسنسنگ کے معاملے میں ان اعداد و شمار کے ذریعے صوبائی حکومتوں کے مختلف ادوار میں جاری ہونے والے لائسنسز کی تعداد اور عسکری اداروں کے کردار کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم، لائسنسز کی مدت، نوعیت، موجودہ حیثیت اور ان سے حاصل ہونے والی آمدن کا جائزہ لینے کے لیے متعلقہ سرکاری ریکارڈ بھی اہم ہے۔