پنجاب میں پیدائش، وفات اور شادی کے سرٹیفکیٹس کے اجرا کے لیے نیا بائیومیٹرک نظام متعارف کرادیا گیا ہے۔
اس نظام کا مقصد جعلی اندراجات اور غیر قانونی سرٹیفکیٹس کی روک تھام کرنا ہے۔ نئے طریقہ کار کے تحت شہریوں کی معلومات کی تصدیق نادرا کے ڈیٹا بیس سے کی جائے گی۔ اس اقدام سے سرکاری دستاویزات کے اجرا میں شفافیت بڑھانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
صوبائی وزیر بلدیات پنجاب ذیشان رفیق نے شیخوپورہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے یونین کونسلز میں جدید بائیومیٹرک نظام کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ محکمہ بلدیات پنجاب نے نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے تعاون سے سی آر ایم ایس بائیومیٹرک نظام شروع کیا ہے۔
نئے نظام کے تحت پیدائش، وفات اور شادی کے سرٹیفکیٹس جاری کرنے سے پہلے نادرا کے ریکارڈ کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیق کی جائے گی۔ اس عمل سے درخواست گزار کی شناخت کی جانچ ممکن ہوگی۔ اس طریقہ کار سے غلط معلومات کی بنیاد پر اندراج اور جعلی دستاویزات کے اجرا کے امکانات کم کیے جاسکیں گے۔
وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے افتتاحی تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جدید بائیومیٹرک نظام سے جعلی اندراجات اور بوگس سرٹیفکیٹس کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ اس نظام کے ذریعے سرکاری ریکارڈ کو زیادہ قابل اعتماد بنایا جاسکے گا۔ اس کے ساتھ شہریوں کو مستند دستاویزات حاصل کرنے میں بھی سہولت ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے ڈیجیٹل نظام کا ایک اہم مقصد عوام کو سفارش اور رشوت کے بغیر سرکاری خدمات فراہم کرنا ہے۔ اس نظام کے ذریعے سرٹیفکیٹس کے اجرا کے عمل کو بہتر بنانے اور غیر ضروری رکاوٹیں کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ شہریوں کو بروقت دستاویزات فراہم کرنا بھی اس اقدام کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔
ذیشان رفیق کے مطابق ڈیجیٹل پنجاب ویژن کے تحت بائیومیٹرک نظام کو مرحلہ وار صوبے کی تمام یونین کونسلز تک پھیلایا جائے گا۔ اس طرح شہریوں کو اپنے علاقوں میں پیدائش، وفات اور شادی کے سرٹیفکیٹس کے حصول کے لیے زیادہ شفاف اور جدید سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
نئے نظام کے نفاذ سے سرکاری ریکارڈ کی درستگی بہتر بنانے اور دستاویزات کے غلط استعمال کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، اس نظام کی کامیابی کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ اسے یونین کونسلز میں کس طرح نافذ کیا جاتا ہے اور شہریوں کو اس سے کتنی آسانی سے فائدہ پہنچتا ہے۔






