پنجاب میں اسلحہ لائسنس حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کو دھوکا دینے کے لیے نادرا سے منسوب ایک جعلی ویب سائٹ کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔
اس ویب سائٹ کے ذریعے شہریوں سے اسلحہ لائسنس کی درخواست اور فیس کے نام پر رقم وصول کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ درخواست گزاروں سے شناختی اور دیگر ذاتی معلومات بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔ اس صورت حال کے باعث شہریوں کو مالی نقصان پہنچنے کے ساتھ ان کی حساس معلومات کے غلط استعمال کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔
نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے اس معاملے پر شہریوں کے لیے انتباہ جاری کیا ہے۔ ادارے نے پنجاب میں اسلحہ لائسنس کے حصول کے لیے درخواست دینے والے افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ جعلساز عناصر سے ہوشیار رہیں۔ کسی بھی ویب سائٹ پر درخواست جمع کرانے یا فیس ادا کرنے سے پہلے اس کے اصل اور سرکاری ہونے کی تصدیق ضرور کریں۔
نادرا کے مطابق جعلی ویب سائٹس سرکاری اداروں سے منسوب ہو کر شہریوں کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ایسی ویب سائٹس بظاہر اصل سرکاری پورٹل جیسی دکھائی دے سکتی ہیں۔ اس وجہ سے عام صارفین کے لیے ان میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ شہری جلدی میں درخواست دینے کے لیے اپنی شناختی معلومات درج کر دیتے ہیں یا فیس کے نام پر رقم منتقل کر دیتے ہیں۔ بعد میں انہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی غیر مصدقہ ویب سائٹ کے ذریعے دھوکا دہی کا شکار ہو چکے ہیں۔
پنجاب اسلحہ لائسنس کے لیے صرف سرکاری ویب سائٹ استعمال کریں
نادرا نے شہریوں کو واضح ہدایت کی ہے کہ پنجاب اسلحہ لائسنس کی خدمات کے لیے صرف سرکاری ویب سائٹ pal.nadra.gov.pk استعمال کریں۔ درخواست گزاروں کو چاہیے کہ ویب سائٹ کھولتے وقت اس کا درست ایڈریس غور سے چیک کریں۔ سرچ انجن یا سوشل میڈیا پر نظر آنے والے ہر لنک کو سرکاری سمجھ کر اس پر اپنی معلومات فراہم نہ کریں۔
خاص طور پر ایسی ویب سائٹس سے محتاط رہیں جو اسلحہ لائسنس جلد جاری کروانے، درخواست فوری منظور کرانے یا اضافی رقم کے عوض خصوصی سہولت دینے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ کسی ویب سائٹ کا سرکاری ادارے کا نام یا لوگو استعمال کرنا اس کے مستند ہونے کا ثبوت نہیں ہے۔ اس لیے رقم جمع کرانے سے پہلے ویب سائٹ کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔
شناختی معلومات دینے سے پہلے احتیاط کیوں ضروری ہے؟
اسلحہ لائسنس کے لیے درخواست دیتے وقت شہریوں کو اپنی شناخت سے متعلق حساس معلومات فراہم کرنا پڑ سکتی ہیں۔ اگر یہ معلومات کسی جعلی ویب سائٹ کے ذریعے جعلسازوں تک پہنچ جائیں تو ان کا غلط استعمال ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس سے شہریوں کی ذاتی رازداری متاثر ہونے کے علاوہ مزید مالی فراڈ کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
اسی طرح اگر کوئی شخص جعلی ویب سائٹ پر فیس ادا کر دے تو اس کی رقم واپس ملنا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔ بعض جعلساز درخواست گزاروں کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کی درخواست کارروائی کے مراحل میں ہے، جبکہ حقیقت میں کوئی سرکاری درخواست جمع ہی نہیں ہوئی ہوتی۔ اس لیے صرف ویب سائٹ پر دکھائی جانے والی معلومات یا ادائیگی کی رسید پر بھروسا کرنے کے بجائے سرکاری ذرائع سے تصدیق کرنا بہتر ہے۔
جعلی ویب سائٹ سے بچنے کے لیے شہری کیا کریں؟
شہریوں کو چاہیے کہ اسلحہ لائسنس کی درخواست کے لیے ویب سائٹ کا ایڈریس خود درست طریقے سے درج کریں۔ کسی نامعلوم شخص کی جانب سے بھیجے گئے لنک پر کلک کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر اشتہارات، غیر مصدقہ صفحات اور واٹس ایپ پیغامات کے ذریعے موصول ہونے والی پیشکشوں پر فوری اعتماد نہ کریں۔
اگر کوئی ویب سائٹ غیر معمولی فیس طلب کرے یا شناختی معلومات فراہم کرنے کے لیے دباؤ ڈالے تو درخواست گزار کو مزید کارروائی سے پہلے اس کی تصدیق کرنی چاہیے۔ کسی بھی مشکوک ویب سائٹ پر شناختی کارڈ نمبر، ذاتی تفصیلات یا بینک سے متعلق معلومات فراہم کرنے سے گریز کریں۔
اگر کسی شہری کو شبہ ہو کہ اس نے جعلی ویب سائٹ پر رقم جمع کرائی ہے یا اپنی حساس معلومات فراہم کی ہیں تو اسے متعلقہ بینک اور متعلقہ سرکاری ادارے سے فوری رابطہ کرنا چاہیے۔ اس سے ممکنہ نقصان کو کم کرنے اور معاملے کی رپورٹ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
مجموعی طور پر، پنجاب اسلحہ لائسنس کے نام پر جعلی ویب سائٹ کا معاملہ شہریوں کے لیے ایک اہم انتباہ ہے۔ نادرا نے درخواست گزاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ ویب سائٹس سے دور رہیں اور صرف سرکاری پورٹل pal.nadra.gov.pk کے ذریعے اسلحہ لائسنس کی خدمات حاصل کریں۔ ویب سائٹ کی تصدیق اور ذاتی معلومات کے تحفظ کے لیے احتیاط کرنا مالی فراڈ سے بچنے کا اہم ذریعہ ہے۔






