تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
پاکستان

ملتان بوسن روڈ پر کار کا المناک حادثہ، شجاع آباد کے 5 دوست جاں بحق

شجاع آباد

ملتان کے بوسن روڈ پر رات گئے ایک تیز رفتار کار ڈیوائیڈر سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں شجاع آباد سے تعلق رکھنے والے 5 دوست موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔

شجاع آباد سے ملتان جانے والے 5 دوستوں کی گاڑی بوسن روڈ پر تیز رفتاری کے باعث بے قابو ہو کر سڑک کے بیچ قائم ڈیوائیڈر سے جا ٹکرائی۔

حادثہ اتنا شدید تھا کہ کار میں سوار پانچوں نوجوان موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے افراد کا تعلق شجاع آباد سے ہے، جن میں جلال پور کھاکھی کے رہائشی دو سگے بھائی عبد الوہاب اور دانیال، بستی خوجہ کا رہائشی مزمل، اور ملتانی گیٹ کا رہائشی یاسر شامل ہیں۔

ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر لاشوں کو ملتان کے نشتر اسپتال منتقل کیا، جہاں سے قانونی کارروائی کے بعد تمام لاشیں شجاع آباد منتقل کرنے کے انتظامات کیے گئے۔ ملتانی گیٹ کے رہائشی محمد یاسر کی لاش جیسے ہی ان کے گھر پہنچی تو علاقے میں کہرام مچ گیا اور ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔