خیبر پختونخوا پولیس کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کے لیے سمری تیار کر لی گئی ہے۔
سمری میں مختلف علاقوں میں تعینات پولیس اہلکاروں کو بنیادی تنخواہ کے 75 سے 120 فیصد تک سیکیورٹی چیلنج الاؤنس دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ سمری گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کو ارسال کر دی گئی ہے۔ تاہم، اس تجویز کی منظوری اور عمل درآمد کے حوالے سے حتمی فیصلہ سامنے آنا باقی ہے۔
سمری میں جنوبی اضلاع اور ضم شدہ اضلاع میں تعینات پولیس اہلکاروں کے لیے بنیادی تنخواہ کا 120 فیصد سیکیورٹی چیلنج الاؤنس تجویز کیا گیا ہے۔ دیگر آباد اضلاع میں تعینات اہلکاروں کو بنیادی تنخواہ کا 100 فیصد الاؤنس دینے کی تجویز ہے۔ اسی طرح ہزارہ ریجن کے پولیس اہلکاروں کے لیے بنیادی تنخواہ کا 75 فیصد الاؤنس مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
سمری میں بتایا گیا ہے کہ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو سیکیورٹی چیلنج الاؤنس کی مد میں ماہانہ 5 ارب 15 کروڑ روپے سے زائد کے اضافی اخراجات ہوں گے۔ اس اضافے کا مقصد پولیس اہلکاروں کو درپیش سیکیورٹی خطرات اور ان کی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مالی سہولت فراہم کرنا ہے۔
پولیس کی تنخواہیں دیگر صوبوں سے کم ہونے کا مؤقف
سمری میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس گزشتہ تین دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس دوران پولیس اہلکاروں نے مختلف کارروائیوں اور سیکیورٹی فرائض کی انجام دہی میں بھاری قربانیاں دی ہیں۔ اس کے باوجود صوبے کی پولیس کی تنخواہیں اور الاؤنسز دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم ہیں۔
سمری کے مطابق پولیس اہلکاروں کو درپیش خطرات اور ان کی ذمہ داریوں کو دیکھتے ہوئے تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ پولیس کی آپریشنل صلاحیت بہتر بنانے کے لیے بھی اضافی وسائل فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
اسلحے اور جدید حفاظتی آلات کے لیے اربوں روپے طلب
خیبر پختونخوا پولیس نے اسلحے، گولہ بارود، ٹرانسپورٹ اور جدید سیکیورٹی آلات کی خریداری کے لیے بھی اضافی فنڈز مانگے ہیں۔ سمری میں کہا گیا ہے کہ بجٹ کی کمی کے باعث پولیس کو ضروری سامان اور جدید نگرانی کے آلات کی قلت کا سامنا ہے۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے مختلف نوعیت کے آلات اور گاڑیوں کی خریداری کی تجویز دی گئی ہے۔
مجوزہ خریداری میں سب مشین گنز، رائفلز، بلٹ پروف جیکٹس اور بیلسٹک ہیلمٹس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ڈرونز، تھرمل ویپن سائٹس، دوربینوں اور ڈرونز کے خلاف استعمال ہونے والے خصوصی نظام کی خریداری بھی تجویز کی گئی ہے۔ پولیس کے لیے بکتر بند گاڑیاں خریدنے کی سفارش بھی سمری کا حصہ ہے۔
ان آلات کی فراہمی سے پولیس اہلکاروں کو خطرناک علاقوں میں کارروائیوں کے دوران بہتر حفاظتی سہولتیں مل سکتی ہیں۔ جدید نگرانی کے نظام سے سیکیورٹی خطرات کی نشاندہی اور کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے۔
پولیس کی خریداری اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی درخواست
ذرائع کے مطابق پولیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 13 ارب 87 کروڑ روپے سے زائد کے اضافی فنڈز طلب کیے گئے ہیں۔ مالی سال 2026-27 کے دوران آباد اضلاع میں خریداری کے لیے 11 ارب 16 کروڑ روپے جبکہ ضم شدہ اضلاع کے لیے 3 ارب 35 کروڑ روپے سے زائد جاری کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
سمری میں پولیس کے جاری ترقیاتی منصوبوں اور مختلف اسکیموں کے لیے بھی رقم فراہم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ان منصوبوں کی تکمیل اور ضروری اخراجات پورے کرنے کے لیے مجموعی طور پر 12 ارب 22 کروڑ روپے جاری کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
پولیس کے بجٹ میں اضافے کی ضرورت پر زور
سمری میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مسلسل کارروائیوں کے باعث پولیس کو اہلکاروں کی ضروریات کے ساتھ اسلحے، حفاظتی سامان اور جدید آلات کی فراہمی پر بھی زیادہ توجہ دینا ہوگی۔ مناسب فنڈز نہ ہونے کی صورت میں پولیس کی آپریشنل صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔






