اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمین کی ترقی سے متعلق اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ترقی خودکار حق نہیں، تاہم کسی افسر کے کیس کو بار بار مؤخر کرکے غیر معینہ مدت تک زیرِ التوا بھی نہیں رکھا جا سکتا۔ عدالت نے پولیس افسر تنویر احمد طاہر کی گریڈ 19 سے گریڈ 20 میں ترقی نہ دینے کے خلاف درخواست مسترد کردی، تاہم ترقی کے معاملات میں قانونی تقاضوں اور معقول وجوہات کی اہمیت اجاگر کی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق سینٹرل سلیکشن بورڈ (سی ایس بی) کی جانب سے کسی افسر کی ترقی مؤخر کرنے کے لیے متعلقہ قواعد کے تحت جائز اور مناسب بنیاد موجود ہونا ضروری ہے۔ مسلسل التوا بذاتِ خود ترقی کا حق پیدا نہیں کرتا، لیکن ہر فیصلے کا جواز متعلقہ قواعد اور حالات کے مطابق ہونا چاہیے۔
ترقی کے لیے اہلیت اور میرٹ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں
کیس میں تنویر احمد طاہر کی ترقی کے جائزے کے دوران سی ایس بی کے مقرر کردہ معیار اور افسر کے حاصل کردہ نمبروں کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق متعلقہ معیار 70 نمبر تھا جبکہ افسر نے 63.56 نمبر حاصل کیے تھے۔
عدالت کے فیصلے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کسی سرکاری افسر کی ترقی کا فیصلہ مقررہ قواعد، اہلیت اور متعلقہ بورڈ کے جائزے کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ محض سروس میں طویل عرصہ گزارنے یا ترقی کے لیے متعدد مرتبہ زیرِ غور آنے سے خودکار طور پر اگلے گریڈ میں ترقی کا حق پیدا نہیں ہوتا۔
احتسابی مقدمے سے بریت کے بعد دوبارہ جائزے کا معاملہ
فیصلے میں افسر کے احتسابی ریفرنس سے بری ہونے کے معاملے کا بھی ذکر کیا گیا۔ ایسے حالات میں اگر ترقی روکنے کی بنیادی وجہ ختم ہو جائے تو متعلقہ حکام کے لیے ضروری ہے کہ وہ کیس کا دوبارہ جائزہ لیں اور فیصلے کی قانونی بنیاد واضح کریں۔
عدالت نے سرکاری ملازمین کے معاملات میں قواعد کی یکساں پابندی اور متعلقہ وجوہات کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ ترقی کے کیس کو مؤخر کرنے کے لیے محض غیر واضح یا غیر متعلقہ وجوہات کافی نہیں ہوسکتیں۔
سرکاری ملازمت میں سیاسی مداخلت پر بھی توجہ
فیصلے میں قائداعظم محمد علی جناح کی سرکاری ملازمین کے لیے بیان کردہ رہنما اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے سول سروس میں سیاسی مداخلت سے گریز کی اہمیت اجاگر کی گئی۔ سرکاری افسران کے ترقیاتی اور انتظامی معاملات میں میرٹ، قواعد اور غیر جانب داری کو بنیادی اصول قرار دیا گیا۔
عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے سروس کی مدت سے متعلق معاملہ متعلقہ محکمہ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سامنے رکھنے کی ہدایت بھی کی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت نہیں کی گئی۔
یہ فیصلہ سرکاری ملازمین کی ترقی کے عمل میں ایک اہم اصول واضح کرتا ہے: ترقی قواعد اور میرٹ کے مطابق ہوگی، لیکن افسر کے کیس کو مؤخر کرنے کے لیے بھی قانونی اور معقول بنیاد ضروری ہے۔






