پشاور ہائی کورٹ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور اسپیکر بابر سلیم سواتی سمیت دیگر کی بازیابی سے متعلق کیسز میں وفاقی حکومت اور چیف سیکریٹری کو نوٹس جاری کر دیئے۔
پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس سید ارشد علی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، اسپیکر بابر سلیم سواتی اور دیگر کی بازیابی کی درخواستوں پر سماعت کی۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سے وزیراعلیٰ، اسپیکر اور جنید اکبر سمیت دیگر رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا ہے اور اب تک ان کے ٹھکانے کا کوئی پتہ نہیں چل رہا، جبکہ اسپیکر بابر سلیم ایک آئینی عہدے پر فائز ہونے کے باوجود قید میں ہیں۔
اس پر جسٹس سید ارشد علی نے ریمارکس دیئے کہ ویسے یہ وزیراعلیٰ کہاں پر ہیں اور آپ نے کیس میں چیف سیکریٹری کو فریق کیوں نہیں بنایا۔
پی ٹی آئی وکیل نے کہا صوبے میں نہ جنگ ہے نہ بیرونی جارحیت، ایمرجنسی کے حالات نہیں تھے، ماضی میں دہشت گردی عروج پر رہی تب بھی ایمرجنسی نافذ نہیں کی گئی۔
درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیئے کہ آرٹیکل دو سو چونتیس تب نافذ ہوگا، جب حکومت کام کرنا چھوڑ دے۔ صوبائی حکومت اور اسمبلی چل رہی تھی گورنر راج اور ایمرجنسی کے لیے آئینی و قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔
دوران سماعت سلمان اکرم راجا نے استدعا کی کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کو غیر آئینی قرار دے کر صوبائی اسمبلی بحال کی جائے جبکہ بیرسٹر گوہر نے عدالت سے استدعا کی کہ وزیراعلیٰ، کابینہ اور اسپیکر کو رہا کیا جائے۔
عدالت نے وفاقی حکومت، انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کر لیا اور کیس کی مزید کارروائی 3 نومبر تک ملتوی کر دی۔






