رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ ملک کو اس وقت دہشت گردی کا سنگین مسئلہ درپیش ہے، جس کے خلاف پوری قوم کو سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر متحد ہونے کی ضرورت ہے۔
سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر وزیر اعظم رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ماضی میں بھی دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب جیسی بڑی کارروائیاں تمام سیاسی جماعتوں کے باہمی اتفاق رائے سے شروع کی گئی تھیں، جن کے ذریعے ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا گیا تھا۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ افواج پاکستان ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مسلسل عظیم قربانیاں دے رہی ہیں، اور کل ہی دہشت گردی کے خلاف لڑتے ہوئے پاک فوج کے ایک افسر نے جامِ شہادت نوش کیا ہے۔ رانا ثناء اللہ نے زور دیا کہ آج بھی اسی جذبے کے تحت دہشت گردی کے معاملے پر متحد ہونے کی شدید ضرورت ہے۔
اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے اور بات چیت کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے، لیکن حکومت کی جانب سے مذاکرات کی بار بار دعوت کے باوجود احتجاج کی کال دینا کوئی قومی خدمت نہیں ہے۔
انہوں نے تنقید کی کہ اپوزیشن صرف ایک ذاتی ملاقات کے لیے پورے ریاستی ادارے کے خلاف بیانیہ بناتی ہے، پارٹی کو اپنے طرزِ عمل پر غور کرنا چاہیے۔ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ایسے عناصر کی جیل ملاقاتوں پر پابندی بھی لگائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن جماعتیں اپنے بانی کی رہائی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی امیدیں لگائے بیٹھی تھیں، لیکن ان کا اپنا سوشل میڈیا ہی ان کی سیاست کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا ہے، لہذا پی ٹی آئی کو خود اپنی غیر سنجیدہ حرکتوں پر گہرائی سے غور کرنا چاہیے۔






