تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
پاکستان

سہیل آفریدی مذاکرات کے چوتھے ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے، طارق فضل چوہدری

سہیل آفریدی

طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی کے عدم تعاون کے باعث گورنر راج لگانے کا فیصلہ کیا گیا، صوبے میں امن و امان حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے موجودہ حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں مؤثر انتظامی تعاون اور امن کی بحالی کو یقینی بنانے کے لیے 11 اکتوبر کو صدارتی فرمان کے ذریعے کے پی میں گورنر راج نافذ کیا گیا تھا، جس کی بعد میں پارلیمنٹ سے بھی باضابطہ توثیق کروائی گئی۔ خیبرپختونخوا میں قیامِ امن کے لیے گورنر کی سربراہی میں 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دے دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے دوران حکومت کی بنیادی کوشش یہی تھی کہ دہشت گردی کے ناسور کے خلاف تمام فریقین ایک پیج پر آ جائیں، کیونکہ صوبائی سطح پر مضبوط تعاون کے بغیر دہشت گردی کا مکمل مقابلہ کرنا ممکن نہیں تھا۔

طارق فضل چوہدری نے الزام عائد کیا کہ سہیل آفریدی کے عدم تعاون اور ہٹ دھرمی کے باعث ہی مجبوری میں گورنر راج لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ سہیل آفریدی مذاکرات کے چوتھے ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر مذاکرات شروع ہوئے تھے اور حکومت کو ان کے نتیجہ خیز ہونے کی امید تھی۔ محمود اچکزئی نے عمران خان سے ملاقات کے بغیر آگے بڑھنے سے انکار کیا تھا، جبکہ مذاکرات میں ملاقات کا ٹائم فریم اور حل بھی موجود تھا۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی اسمبلیوں سے استعفے دے تو چالیس ارکان استعفے نہیں دیں گے۔

انہوں کا کہنا تھا کہ بھارت مسلسل پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے اور غیر ملکی عناصر کالعدم تنظیم بی ایل اے کی بھی مدد کر رہے ہیں، لیکن حکومت ملک کو ہر قسم کی دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی نے کبھی بھی دہشت گردی یا دہشتگردوں کی کھلے الفاظ میں مذمت نہیں کی اور نہ ہی کبھی اپنے حلف کی پاسداری کی۔ انہوں نے تمام اپوزیشن جماعتوں کو دعوت دی کہ وہ ملک کو بچانے کے لیے دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد میں شامل ہوں۔