پاکستان اور مالدیپ کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے 20 معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جبکہ تجارتی حجم کو 2 سالوں میں 200 ملین ڈالر تک پہنچانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
پاکستان اور مالدیپ کے درمیان باہمی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے پر سفارتی اور اقتصادی شراکت داری کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے اسلام آباد میں تقریب منعقد ہوئی۔
وزیراعظم شہباز شریف اور 11 سال بعد پاکستان کا دورہ کرنے والے مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کی موجودگی میں دونوں ممالک نے آئی ٹی، سائبر سیکیورٹی، مصنوعی ذہانت، انسدادِ منشیات، سماجی تحفظ، ہیلتھ، زراعت، ماہی گیری، سیاحت اور دفاع کے 20 شعبوں میں تعاون کی یادداشتوں پر دستخط کیے۔ اس موقع پر مالدیپ کے صدر کو اسلامی یونیورسٹی کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری بھی تفویض کی گئی۔
مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اگلے 2 سالوں کے اندر دونوں ممالک کا دوطرفہ تجارتی حجم 13 ملین ڈالر سے بڑھا کر 200 ملین ڈالر تک پہنچایا جائے گا۔ مالدیپ کو آئی ٹی شعبے میں مکمل تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی۔
وزیراعظم نے مسئلہ فلسطین اور کشمیر پر پاکستان کا اصولی مؤقف دہراتے ہوئے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کا بھارتی فیصلہ ناقابلِ قبول ہے، پانی ہماری ریڈ لائن ہے اور اسے روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہو گی۔ صدر مالدیپ نے پاکستان کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان معاہدوں کو تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیا۔






