پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی سرگرمیاں معطل ہونے سے سرحد پر سینکڑوں مال بردار ٹرک پھنس گئے ہیں، ڈرائیور پینے کے پانی اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی سرگرمیاں معطل ہونے کے بعد پاکستان کی سرحدی گزرگاہوں پر سینکڑوں مال بردار ٹرکوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں۔ صوبائی حکام اور تجارتی رہنماؤں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تمام سرحدی تجارت کو روک دیا گیا ہے۔
پاکستان کے جنوب مغربی سرحدی علاقے گبد اور ریمدان پر سینکڑوں مال بردار گاڑیاں ایران میں داخلے کی منتظر کھڑی ہیں۔ کئی دنوں سے سرحدی بندش کے باعث پھنسے ڈرائیوروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ سرحد بند ہونے سے ان کے پاس پینے کا پانی ہے نہ ہی کھانے پینے یا دیگر بنیادی ضروریات کی کوئی سہولت موجود ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تجارتی سرگرمیاں فوری بحال کی جائیں تاکہ غریب مزدور اور بلوچ تاجر مزید مالی نقصان سے بچ سکیں۔
بلوچستان کے ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ گزشتہ 5 دنوں سے سرحد تجارتی گاڑیوں کے لیے بند ہے، تاہم بدھ کو صرف ان گاڑیوں کو جانے کی اجازت دی گئی، جو ایران کے راستے ترکیہ یا وسطی ایشیاء کے ممالک سامان لے جا رہی تھیں۔
بلوچستان حکومت کے معاونِ خصوصی برائے میڈیا شاہد رند کے مطابق یہ بندش سیکیورٹی خدشات کو دور کرنے اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے عارضی طور پر کی گئی ہے۔
گوادر کے تاجر شمس الحق کے مطابق اس پالیسی سے پاکستانی درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کو اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔






