تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
پاکستان

22 اکتوبر یومِ فتحِ مظفرآباد، ڈوگرہ راج کے خلاف تاریخی جدوجہد کا یادگار دن

ڈوگرہ راج

22 اکتوبر یومِ فتحِ مظفرآباد ڈوگرہ راج کے خلاف کشمیریوں اور قبائلی لشکر کی تاریخی جدوجہد اور حقِ خودارادیت کی یادگار کے طور پر منایا جا رہا ہے۔

22 اکتوبر 1947 کو مظفرآباد میں ڈوگرہ راج کے مظالم کے خلاف فیصلہ کن پیش قدمی کا آغاز ہوا تھا۔ پٹیالہ اور ڈوگرہ فورسز کے مظالم سے کشمیری عوام کو بچانے کے لیے قبائلی لشکر مظفرآباد کی جانب بڑھا تھا۔

خورشید انور کی قیادت میں 22 اکتوبر 1947 کو اس تاریخی معرکے کا آغاز ہوا، جس کے نتیجے میں ڈوگرہ فوج کی تمام دفاعی پوزیشنیں ٹوٹ کر بکھر گئیں۔

مظفرآباد اور دومیل کے اہم اسٹریٹجک مقامات پر کنٹرول حاصل ہونے کی وجہ سے اوڑی، بارہمولہ اور سرینگر کی جانب پیش قدمی کی راہ ہموار ہوئی۔

قبائلی لشکروں اور مقامی کشمیریوں کی اس مشترکہ جدوجہد نے ڈوگرہ راج کے خلاف مزاحمت کی ایک لازوال علامت قائم کی۔

فتحِ مظفرآباد کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی، ان کی عظیم قربانیوں اور حقِ خودارادیت کی تاریخی داستان کا ایک انتہائی اہم اور روشن باب ہے۔