تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
پاکستان

گورنر خیبر پختونخوا نے امن و امان برقرار رکھنے کیلئے ڈپٹی کمشنرز کو گرفتاری کے اختیارات دے دیئے

گورنر خیبر پختونخوا

گورنر خیبر پختونخوا نے امن و امان کی صورتِ حال کے پیشِ نظر ڈسٹرکٹ لیول پر فوری کارروائی کے لیے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت خاص اختیارات تفویض کر دیئے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں اعلان کیا ہے کہ امن و امان کی موجودہ صورتِ حال کے پیشِ نظر انہوں نے ویسٹ پاکستان مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس 1960 کے سیکشن 3 کی ذیلی دفعہ ایک کے تحت اختیارات خیبر پختونخوا کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو تفویض کر دیے ہیں۔

اس اقدام کا مقصد ضلع کی سطح پر بروقت اور موثر روک تھام کی کارروائیوں کو یقینی بنانا، انتظامی تاخیر کو کم کرنا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے واضح کیا کہ ان اختیارات کا استعمال بلکل آئین اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز سے ذمہ دارانہ رویے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی توقع ظاہر کی اور تاکید کی کہ ان اختیارات کا غلط استعمال بلکل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ عوام کا امن، سلامتی اور تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے۔

واضح رہے کہ ویسٹ پاکستان مینٹیننس آف پبلک آرڈر (MPO) آرڈیننس 1960 کا سیکشن 3(1) حکومت یا نامزد انتظامی افسر (مثلاً ڈپٹی کمشنر) کو یہ قانونی اختیار دیتا ہے کہ اگر کسی شخص کے بارے میں یہ اندیشہ ہو کہ وہ امن و امان کی خرابی، عوامی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے یا امن عامہ کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں میں ملوث ہو سکتا ہے، تو اسے پیشگی اقدام کے طور پر حراست میں لیا جا سکتا ہے یا اس کی نقل و حرکت کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک وقائی کا اختیار ہے، جو اضلاع میں نقضِ امن کے خطرے سے نمٹنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔