تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
پاکستان

لیڈی ریڈنگ اسپتال میں اقربا پروری کا انکشاف، نااہل تقرری پر کروڑوں روپے خرچ

لیڈی ریڈنگ اسپتال

لیڈی ریڈنگ اسپتال میں سیاسی بنیادوں پر تقرری کا اسکینڈل سامنے آیا ہے، جہاں آڈٹ رپورٹ میں سنگین اعتراضات کے باوجود کروڑوں روپے کی ادائیگی کی گئی۔

پشاور کے معروف لیڈی ریڈنگ اسپتال میں ڈاکٹر نوشیروان برکی کے زیر انتظام مبینہ اقربا پروری کی انوکھی مثال سامنے آئی ہے، جہاں اسپتال کی تاریخ میں پہلی بار سیاسی بنیادوں پر ایک عام آدمی کو اسپتال کا ڈائریکٹر تعینات کیا گیا۔

ایک آڈٹ رپورٹ کے مطابق محمد طارق کو 16 جنوری 2017 کو سلیکشن اینڈ پروموشن کمیٹی کے ذریعے ایسوسی ایٹ اسپتال ڈائریکٹر تعینات کیا گیا۔

مذکورہ آسامی کیلئے اسپتال یا ہیلتھ سروسز مینجمنٹ، بزنس مینجمنٹ، پبلک ہیلتھ یا پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر ڈگری اور انتظامی سطح پر کم از کم 7 سال کا تجربہ لازمی قرار دیا گیا تھا، تاہم متعلقہ افسر نے 2010 میں ایم بی اے کیا تھا اور آڈٹ کے مطابق درخواست اور تقرری کے وقت ان کا بعد از ڈگری تجربہ مطلوبہ 7 سال سے کم تھا۔ رپورٹ میں تعلیمی اسناد اور تجربے کے سرٹیفکیٹس میں بھی متعدد تضادات کی نشاندہی کی گئی تھی۔

محمد طارق کی مقررہ تنخواہ 5 لاکھ 8 ہزار 892 روپے ماہانہ کے حساب سے اگست 2019 تک 43 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 2 کروڑ 18 لاکھ 82 ہزار 356 روپے ادا کیے گئے۔

آڈٹ رپورٹ میں سنگین اعتراضات کے بعد اعلیٰ سطح انکوائری، نیب اور محکمہ انسداد بدعنوانی سے تحقیقات اور رقم وصولی کی سفارش کی گئی تھی، تاہم اس کے باوجود پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت نے مذکورہ رقم وصول کرنے کے بجائے بطور انعام انہیں پورے اسپتال کی قیادت حوالے کردی۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور اسکول سانحہ میں زخمی بچوں کی عیادت کیلئے پہنچیں تو انہیں معلوم ہوا کہ اسپتال ڈائریکٹر خود ہی ڈاکٹر نہیں۔