سلمان اکرم راجہ کا لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار رکھنے کا اعلان، مولانا فضل الرحمان سمیت سیاسی جماعتوں سے رابطے جاری، علی امین گنڈاپور کی مبینہ آڈیو میں پارٹی قیادت پر تنقید
پشاور (جی ٹی وی نیوز اردو): پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آئندہ 10 روز میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کردیا ہے، جبکہ پارٹی قیادت کے درمیان اختلافات کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کے لیے مولانا فضل الرحمان سمیت اہم سیاسی جماعتوں سے رابطے کیے جا رہے ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ پارٹی کا لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ برقرار ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے محمود اچکزئی کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے مقرر کردہ قائد حزب اختلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ اور اسپیکر کو لاپتا کیا گیا، جبکہ ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کو بھی اٹھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مذاکرات کی ناکامی سے متعلق بیانیے کو غلط قرار دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ مذاکرات جان بوجھ کر ناکام بنائے گئے۔
علی امین گنڈاپور کی مبینہ آڈیو لیک
دوسری جانب سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور سلمان اکرم راجہ کے درمیان اختلافات پر مبنی ایک مبینہ آڈیو ریکارڈنگ بھی منظرِ عام پر آئی ہے۔ آڈیو میں علی امین گنڈاپور پارٹی کی حکمت عملی اور موجودہ سیاسی مشکلات پر سلمان اکرم راجہ سے ناراضی کا اظہار کرتے سنائی دیتے ہیں۔
مبینہ ریکارڈنگ میں علی امین گنڈاپور نے حکومت کے خاتمے اور پارٹی کو درپیش مشکلات کا ذمہ دار سلمان اکرم راجہ کی منصوبہ بندی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی ان کی غلط حکمت عملی کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ آڈیو میں انہیں یہ کہتے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے کہ سلمان اکرم راجہ کو مکمل اختیارات نہیں ملے اور وہ نتائج بھی نہیں دے سکے۔
مبینہ آڈیو میں علی امین گنڈاپور نے سلمان اکرم راجہ کے حالیہ ٹوئٹ پر بھی ناراضی ظاہر کی اور اسے فوری طور پر حذف کرنے، الزامات کی وضاحت دینے اور معذرت کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سلمان اکرم راجہ کو پارلیمانی کمیٹی کے اجلاسوں میں بلایا جاتا ہے، لیکن وہ شرکت نہیں کرتے۔
علی امین گنڈاپور نے پارٹی میں سلمان اکرم راجہ کو دی جانے والی عزت کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے وابستہ کرتے ہوئے ان کے مؤقف پر سوالات اٹھائے۔ تاہم مبینہ آڈیو کی آزادانہ تصدیق اور اس کے مکمل سیاق و سباق کی تفصیلات سامنے آنا ضروری ہیں۔
خیبرپختونخوا کی قیادت پر سلمان اکرم راجہ کا مؤقف
سلمان اکرم راجہ نے پارٹی کے اندرونی معاملات اور خیبرپختونخوا حکومت سے متعلق اپنے بیان میں کہا کہ پی ٹی آئی کے اندر اتفاقِ رائے کو غیر جمہوری فیصلہ سازوں کی جانب سے نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ان کے بیان کے مطابق ایسا تاثر دیا جا رہا ہے جیسے 68 ارکان نئے وزیراعلیٰ کا اعلان کرنے والے ہوں اور انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے رابطہ ختم کردیا ہو۔ سلمان اکرم راجہ نے پشاور سمیت مختلف علاقوں میں موجود پارٹی کارکنوں کو ہدایت کی کہ تحقیقات مکمل ہونے تک کسی سازشی بیانیے پر یقین نہ کریں۔
انہوں نے سہیل آفریدی کو آئین اور قانون کے مطابق وزیراعلیٰ قرار دیتے ہوئے ان کی حیثیت برقرار رہنے کا مؤقف اختیار کیا۔
پارٹی عہدوں پر تقرریوں کا معاملہ
سلمان اکرم راجہ نے پارٹی تنظیم کے حوالے سے جنید اکبر کی تقرری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بانی پی ٹی آئی عمران خان نے خود خیبرپختونخوا میں پارٹی صدر مقرر کیا تھا۔ ان کی عدم موجودگی میں علی اصغر قائم مقام صدر کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔
آل پارٹیز کانفرنس کے اعلان، لانگ مارچ کے فیصلے اور قیادت کے درمیان سامنے آنے والے اختلافات کے باعث پی ٹی آئی کی آئندہ سیاسی حکمت عملی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔






