تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
پاکستان

طلبہ کے ب فارم نمبرز کی نادرا سے تصدیق ہوگی، اسکول سربراہان کے لیے اہم ہدایات جاری

محکمہ اسکول ایجوکیشن نے طلبہ کے ب فارم نمبرز کے اندراج اور ان کی درستگی کے حوالے سے نئی ہدایات جاری کردی ہیں۔

ان ہدایات کے تحت تمام طلبہ کے ب فارم نمبرز اسکول انفارمیشن سسٹم (سیس) میں درج کیے جائیں گے۔ اس کے بعد ان نمبرز کی نادرا سے تصدیق بھی کروائی جائے گی۔

محکمہ اسکول ایجوکیشن کے مطابق طلبہ کے ب فارم نمبرز کا اندراج اور درستگی کا عمل 10 روز کے اندر مکمل کرنا ہوگا۔ اس سلسلے میں اسکول سربراہان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام بچوں کا ریکارڈ احتیاط سے چیک کریں۔

محکمے نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی طالب علم کا ب فارم نمبر غلط درج کیا گیا تو اس کی ذمہ داری متعلقہ اسکول کے سربراہ پر عائد ہوگی۔ ایسی غلطی کی وجہ سے اگر نادرا کو تصدیق یا درستگی کے لیے کوئی اخراجات ادا کرنا پڑے تو یہ رقم بھی اسکول سربراہ کو اپنی جیب سے ادا کرنا ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد طلبہ کے ریکارڈ میں غلطیوں کو کم کرنا اور معلومات کے درست اندراج کو یقینی بنانا ہے۔

محکمہ اسکول ایجوکیشن نے ان بچوں کے حوالے سے بھی وضاحت کی ہے جن کے پاس ب فارم موجود نہیں۔ ہدایات کے مطابق ایسی صورت میں بچے کے والد کا قومی شناختی کارڈ نمبر درج کیا جائے۔ اس طرح ب فارم نہ ہونے کے باوجود طالب علم کا ریکارڈ اسکول انفارمیشن سسٹم میں مکمل کیا جاسکے گا۔

محکمے نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ب فارم نہ ہونے کی وجہ سے کسی بچے کو اسکول میں داخلے سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ یعنی اگر بچے کے پاس ب فارم موجود نہیں تو بھی اس کی تعلیم جاری رکھنے اور داخلے کے عمل میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔