تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
پاکستان

سندھ بھر کے سرکاری کالجوں کی مخدوش عمارتوں کی رپورٹ تین دن میں طلب

مخدوش عمارتوں

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ نے صوبے بھر کے سرکاری کالجوں کی خطرناک اور مخدوش عمارتوں کی فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے طلبہ اور اساتذہ کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت کردی۔

کراچی سمیت سندھ بھر کے سرکاری کالجوں کی خستہ حال اور مخدوش عمارتوں کے معاملے پر محکمہ کالج ایجوکیشن نے سخت نوٹس لیتے ہوئے خطرناک عمارتوں کی نشاندہی کرکے تین روز میں جامع رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا ہے۔

کالج ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے خطرناک عمارتوں سے متعلق ہنگامی حفاظتی اقدامات کا حکم دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی بڑے جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

محکمہ کالج ایجوکیشن کا کہنا ہے کہ غیر محفوظ عمارتوں میں طلبہ اور اساتذہ کی موجودگی خطرے کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ کالجوں کی خستہ حال عمارتوں سے انسانی جانوں کو خطرات لاحق ہونے کا خدشہ ہے۔

کراچی ریجن کے تمام سرکاری کالجوں کے پرنسپلز کو فوری حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور ورکس ڈپارٹمنٹ کے انجینئرز کے تعاون سے کالج عمارتوں کی مرمت کے اخراجات کا تخمینہ لگانے کا بھی کہا گیا ہے۔

ہدایت کی گئی ہے کہ تعلیمی سرگرمیاں متاثر کیے بغیر غیر محفوظ کالجوں کو فوری طور پر متبادل محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔