تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
پاکستان

شاہ عبدالطیف یونیورسٹی سے منسلک ایک ہزار سے وکلاء کی ڈگریاں جعلی نکلیں، وسیم اختر

شاہ عبدالطیف یونیورسٹی

وسیم اختر کا کہنا ہے کہ شاہ عبدالطیف یونیورسٹی سے ملحقہ لا کالجز کے ایک ہزار سے زائد وکلاء کی ڈگریاں جعلی ثابت ہو چکی ہیں۔

ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما وسیم اختر نے ایم کیو ایم مرکز بہادرآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم وکلا برادری اور عدلیہ کا بہت احترام کرتے ہیں، لیکن نظام عدل میں موجود لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ انصاف و رواداری قائم کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ شاہ عبدالطیف یونیورسٹی اور اس سے ملحقہ لا کالجز کے وکلا کی ڈگریاں جعلی ثابت ہو چکی ہیں اور انکوائری کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ایک ہزار 184 وکلا کی ڈگریاں جعلی اور غیر قانونی ہیں۔

وسیم اختر کا کہنا تھا کہ یہ وکلا نہ صرف عدالتوں میں لا پریکٹس کرتے رہے ہیں بلکہ بار الیکشنز میں ووٹ کاسٹ بھی کرتے رہے ہیں، جبکہ ڈھائی سے تین ہزار وکلا ڈگریوں کی تصدیق اور جانچ پڑتال سے روگردانی کر رہے ہیں۔

انہوں نے سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کے ماتحت اداروں کا حال ہم سب جانتے ہیں، جہاں جامعہ کراچی لا فیکلٹی کا ڈین وزیر اعلی کے حکم پر ایک جونیئر وکیل کو مقرر کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کی آبادی 4 کروڑ سے تجاوز کر رہی ہے اور موجودہ نظام کے تحت اس شہر کی گورننس ممکن نہیں رہی، اس لیے ملک چلانے کے لئے نئے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہے۔