تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
پاکستان

حکومت اور جماعت اسلامی میں رابطہ، پیٹرولیم لیوی کے خاتمے پر مذاکرات 23 اکتوبر کو ہوں گے

پیٹرولیم لیوی

احسن اقبال کا لیاقت بلوچ سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس کے بعد پیٹرولیم لیوی ٹیکس کے خاتمے پر مذاکرات کیلئے 23 اکتوبر کو اسلام آباد میں اجلاس طے پا گیا۔

حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان ایک بار پھر رابطہ بحال ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں پیٹرولیم لیوی کے خاتمے سے متعلق اہم مذاکرات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ کو ٹیلیفون کیا، جس کے بعد دونوں جماعتوں کی مذاکراتی ٹیموں کا اجلاس طے پا گیا ہے۔

لیاقت بلوچ کے مطابق حکومتی اور جماعت اسلامی کی پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کی مذاکراتی کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس 23 اکتوبر کو اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔

مذاکراتی کمیٹیوں کے اس اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی ملاقات بھی متوقع ہے۔

لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی 23 اکتوبر کو پیٹرولیم لیوی کے خلاف ملک بھر میں پرامن احتجاج کرے گی، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ مذاکرات اور احتجاج ساتھ ساتھ چلیں گے اور اگر عوام کو ریلیف ملے گا، تب ہی معاشی پہیہ آگے چلے گا۔