تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
پاکستان

سگے بھائی نے سعودی عرب سے بغیر بتائے واپس آکر چھوٹے بھائی کا گلا کاٹ ڈالا، ملزم گرفتار

چھوٹے بھائی

گجرات میں گھریلو تنازع پر سعودی عرب سے واپس آنے والے سگے بھائی نے مبینہ طور پر دھوکے سے بلا کر چھوٹے بھائی کو چھری کے وار سے قتل کر دیا۔

گجرات کے علاقے تھانہ دولت نگر کی حدود میں دل دہلا دینے والا قتل کا واقعہ پیش آیا، جہاں خونی رشتہ تار تار ہو گیا۔ روپیری کے رہائشی خالد محمود نے پولیس کو اطلاع دی کہ اس کا 24 سالہ بیٹا محمد سفیان کام کے سلسلے میں گجرات گیا تھا لیکن شام تک واپس نہیں آیا۔

رات کے وقت موٹروے کے زیرِ تعمیر پل کے قریب سڑک کنارے محمد سفیان کی خون میں لت پت گلا کٹی لاش ملی، جبکہ اس کی موٹرسائیکل اور موبائل فون بھی غائب تھا۔

ڈی پی او گجرات فیصل شہزاد کے نوٹس لینے پر پولیس ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی، سیف سٹی کیمروں اور تکنیکی شواہد کی مدد سے تفتیش شروع کی اور مقتول کے سگے بھائی محمد بلال کو گرفتار کر لیا۔

دورانِ تفتیش ملزم محمد بلال نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ سعودی عرب میں مقیم تھا اور گھریلو تنازع پر بھائی کو قتل کرنے کی سازش کے تحت کسی کو بتائے بغیر پاکستان پہنچا۔

اس نے سفیان کو واٹس ایپ کال کر کے سرپرائز کا کہہ کر بلایا، کھانا کھلایا اور پھر سنسان جگہ پر لے جا کر رفع حاجت کے بہانے موٹرسائیکل رکوا کر چھری کے وار سے اس کا گلا کاٹ دیا۔

ملزم نے واردات کو ڈکیتی کا رنگ دینے کے لیے موٹرسائیکل اور فون غائب کر دیئے اور لاہور فرار ہو گیا۔ ملزم نے خاندان کے سامنے بے خبری کا ڈھونگ رچایا، اور جھوٹ بولا کہ میرے سعودی عرب سے آنے تک تدفین نہ کی جائے اور خود جنازے میں بھی شریک رہا تاکہ کسی کو شک نہ ہو، لیکن پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں نے اس کی چال ناکام بنا دی۔