استنبول (جی ٹی وی نیوز اردو): پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں جاری مشترکہ اعلامیے نے خطے میں امن، بحری سلامتی اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
اعلامیے میں سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
چاروں ممالک نے یمن کی حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور حوثی ملیشیا پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات، دھمکیوں اور حملوں سے باز رہے جو خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اعلامیے میں سعودی عرب کی سلامتی کو علاقائی استحکام سے منسلک کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی ضرورت اجاگر کی گئی۔
اجلاس میں امریکا اور ایران کے درمیان فوجی تنازع اور آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی زیرِ بحث آئی۔ مشترکہ مؤقف میں تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دینے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنے پر زور دیا گیا جو کشیدگی میں مزید اضافہ کریں۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم گزرگاہ ہے، اس لیے وہاں بحری آمدورفت میں خلل کے علاقائی اور عالمی معیشت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اعلامیے میں شہریوں، شہری تنصیبات اور بحری جہازوں کے تحفظ کی اہمیت بھی واضح کی گئی۔ چاروں ممالک نے ایسے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جن سے عام شہریوں کو نقصان سے بچایا جا سکے اور بین الاقوامی بحری راستوں کی سلامتی برقرار رہے۔ اجلاس میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی حمایت بھی کی گئی، جسے خطے میں مذاکرات اور تعاون کے لیے سفارتی کوششوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
فلسطین کے معاملے پر مشترکہ اعلامیے میں مغربی کنارے اور مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں اسرائیلی آبادکاری کی سرگرمیوں کی مذمت کی گئی۔ اعلامیے میں تشدد پر مبنی اقدامات ختم کرنے اور فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت پر زور دیا گیا۔ چاروں ممالک نے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی بنیاد پر دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کے تحت فلسطینی ریاست اور اسرائیل امن و سلامتی کے ساتھ قائم ہو سکیں۔
استنبول اجلاس کا اعلامیہ علاقائی تنازعات کے حل، سعودی عرب کی سلامتی، بحری راستوں کے تحفظ اور فلسطینی حقوق سے متعلق چاروں ممالک کے مشترکہ مؤقف کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم اعلامیے میں بیان کردہ سفارتی مطالبات پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ فریقوں کے اقدامات اور آئندہ مذاکرات اہم ہوں گے۔






