خیبر پختونخوا میں سرکاری ملازمین کے لیے دفتری اوقات کی پابندی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
محکمہ خزانہ نے تمام افسران اور دفتری عملے کو صبح 9 بجے تک دفتر پہنچنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ اس کے ساتھ روزانہ کی حاضری اسمارٹ اٹینڈنس ایپ کے ذریعے لگانا بھی لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ ہدایات پر عمل نہ کرنے والے ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
محکمہ خزانہ خیبر پختونخوا نے سرکاری دفاتر میں وقت کی پابندی یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ نوٹیفکیشن اور سرکلر جاری کیا ہے۔ اس میں تمام متعلقہ افسران اور ملازمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ وقت پر اپنی ڈیوٹی شروع کریں۔ کسی بھی ملازم کو دفتری اوقات کی پابندی میں غفلت نہیں برتنی چاہیے۔
جاری سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام ملازمین اپنی روزانہ کی حاضری اسمارٹ اٹینڈنس ایپ کے ذریعے درج کروائیں۔ حاضری کے لیے مقررہ ڈیجیٹل نظام کا استعمال لازمی ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد ملازمین کی آمد و رفت کا ریکارڈ بہتر بنانا اور دفاتر میں حاضری کے نظام کو مؤثر بنانا ہے۔
حکام کے مطابق سرکاری دفاتر میں تاخیر سے پہنچنے اور دفتری اوقات پر عمل نہ کرنے سے سرکاری کام متاثر ہو رہے ہیں۔ اس وجہ سے اہم فائلوں پر کارروائی میں تاخیر ہوتی ہے۔ شہریوں کو بھی اپنے مسائل کے حل کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ محکمہ خزانہ نے ان مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام ملازمین کو وقت کی پابندی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
سرکلر میں کہا گیا ہے کہ افسران اور اہلکاروں کو اپنی ذمہ داریاں مقررہ وقت پر ادا کرنا ہوں گی۔ سرکاری دفاتر میں کام کی رفتار بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ تمام ملازمین وقت پر موجود ہوں۔ اس سے دفتری معاملات نمٹانے اور عوام کو بروقت سہولت فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
محکمہ خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ سرکاری اوقات کی خلاف ورزی کرنے یا حاضری کے مقررہ طریقہ کار پر عمل نہ کرنے والے ملازمین کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ ایسے معاملات میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ تمام افسران کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ماتحت عملے کی حاضری اور وقت کی پابندی کو یقینی بنائیں۔






