تازہ ترین
ایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیاں، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتاردانتوں کی صحت صرف برش سے نہیں بلکہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!!! نئی تحقیق میں اہم انکشافایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیاں، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتاردانتوں کی صحت صرف برش سے نہیں بلکہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!!! نئی تحقیق میں اہم انکشاف
پاکستان

پی ٹی آئی دور حکومت میں اربوں روپے کی بے ضابطگیاں، خیبر پختونخوا کی آڈٹ رپورٹ میں اہم تفصیلات

خیبرپختونخوا مالی بے ضابطگیاں

پشاور (جی ٹی وی نیوز اردو): خیبرپختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کے مالی سال 2024-25 کے آڈٹ میں 18 ارب 46 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں اور مبینہ خورد برد کا انکشاف ہوا ہے۔

آڈٹ رپورٹ میں کمپنی کے مالی معاملات، انتظامی کارکردگی اور صنعتی اراضی کی لیز سے متعلق امور پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ناقص منصوبہ بندی اور کمزور انتظامی نظام کے باعث سرکاری خزانے کو بھاری مالی نقصان پہنچنے کے خدشات سامنے آئے۔ آڈٹ پیراز میں صنعتی اراضی کے واجبات کی عدم وصولی، لیز معاہدوں کی تجدید، سرکاری زمین واگزار کرانے میں ناکامی اور اراضی کی مبینہ غیر قانونی الاٹمنٹ جیسے معاملات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود کمپنی الاٹ شدہ صنعتی مالکان سے لیز کی مد میں 2 ارب 8 کروڑ 49 لاکھ روپے وصول کرنے میں ناکام رہی۔ اسی طرح 2024 میں متعارف کرائی گئی نئی تجدید پالیسی کے تحت کمرشل اراضی کے معاہدوں کی تجدید نہ ہونے سے سرکاری خزانے کو 62 کروڑ 98 لاکھ روپے کے نقصان کی نشاندہی کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق بونیر، مہمند اور جلوزئی میں اراضی واگزار نہ کرانے کے باعث سرکاری خزانے کو ایک ارب 7 کروڑ 74 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔ کمرشل اراضی کو مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے صنعتی استعمال کے لیے الاٹ کرنے کے معاملے میں بھی 17 کروڑ 41 لاکھ روپے کے نقصان کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ہری پور میں الحدید انجینئرنگ کو 10 ایکڑ پر مشتمل پلاٹ نمبر 185، 186، 187 اور 190 الاٹ کیے جانے کا معاملہ بھی آڈٹ رپورٹ میں شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق متعلقہ کمپنی سے اس مد میں رقم وصول نہ ہونے کے باعث سرکاری خزانے کو 49 کروڑ 78 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔

آڈٹ رپورٹ میں کمپنی کے ممکنہ واجبات کا تخمینہ 14 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مالی بوجھ کمپنی کی کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ رپورٹ میں انتظامی کمزوریوں اور مالی معاملات کی نگرانی کے نظام پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

آڈٹ میں سامنے آنے والے نکات مالی ریکارڈ اور متعلقہ معاہدوں کی مزید جانچ کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ تاہم، آڈٹ میں درج بے ضابطگیاں یا مالی نقصان کی نشاندہی بذاتِ خود کسی فرد یا ادارے کے خلاف جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں؛ حتمی ذمہ داری کا تعین متعلقہ تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔