اسلام آباد پولیس نے سال 2026 کے لیے نئی چھٹی پالیسی متعارف کرا دی ہے۔
اس پالیسی کے تحت پولیس افسران اور اہلکاروں کے لیے ہفتہ وار آرام کا دن لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف قسم کی چھٹیوں کی مدت اور منظوری دینے والے افسران کے اختیارات بھی واضح کردیے گئے ہیں۔ نئی پالیسی کا مقصد پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانا اور محکمے میں نظم و ضبط برقرار رکھنا ہے۔
انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد کی جانب سے جاری کردہ پالیسی میں اتفاقی، استحقاقی، طبی اور دیگر اقسام کی چھٹیوں کے قواعد شامل ہیں۔ پالیسی کے مطابق ہفتہ وار آرام کے دن کو باقاعدہ چھٹیوں سے الگ رکھا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ ہفتہ وار آرام اور منظور شدہ چھٹیوں کو الگ الگ قواعد کے تحت دیکھا جائے گا۔
نئی پالیسی میں حج، عمرہ اور زیارت کے لیے بھی چھٹیوں کی مدت مقرر کی گئی ہے۔ پولیس اہلکار حج کی ادائیگی کے لیے 45 دن کی چھٹی حاصل کرسکیں گے۔ جبکہ عمرہ اور زیارت کے لیے 21 دن کی چھٹی دی جائے گی۔ اس اقدام سے اہلکاروں کو مذہبی فرائض کی ادائیگی کے لیے وقت مل سکے گا۔
پالیسی میں تعلیم اور ملازمت سے متعلق امتحانات کے لیے بھی سہولت رکھی گئی ہے۔ CSS اور PCS کے امتحانات میں شرکت کرنے والے پولیس اہلکاروں کو 20 دن تک چھٹی مل سکے گی۔ اس کے علاوہ امتحانات کے بعد انٹرویو میں شرکت کے لیے مزید 15 دن کی چھٹی دینے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ اس طرح اہلکار اپنی پیشہ ورانہ ترقی اور امتحانات کی تیاری کے لیے وقت حاصل کرسکیں گے۔
شادی کے موقع پر بھی پولیس اہلکاروں کے لیے چھٹیوں کا الگ انتظام کیا گیا ہے۔ نئی پالیسی کے مطابق خواتین پولیس افسران اور اہلکاروں کو شادی کے لیے ایک ماہ کی چھٹی دی جائے گی۔ جبکہ مرد اہلکار شادی کے موقع پر 10 دن کی چھٹی حاصل کرسکیں گے۔ اس کے علاوہ طبی ضروریات کے لیے میڈیکل چھٹی کا انتظام بھی پالیسی کا حصہ ہے۔
چھٹیوں کی منظوری کے اختیارات کس افسر کے پاس ہوں گے؟
اسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس عہدے کا افسر کتنی چھٹی منظور کرسکتا ہے۔ آئی جی اسلام آباد کو تمام رینکس کے اہلکاروں کی اتفاقی چھٹی منظور کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ جبکہ استحقاقی چھٹی کی منظوری کے اختیارات ایس پی اور ڈی ایس پی کی سطح تک مقرر کیے گئے ہیں۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) کانسٹیبل سے انسپکٹر تک کے اہلکاروں کی تمام اقسام کی چھٹیاں منظور کرسکے گا۔ اس کے علاوہ اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل کو تین دن تک اتفاقی چھٹی دے سکے گا۔ ڈی ایس پی کو پانچ دن تک اتفاقی چھٹی منظور کرنے کا اختیار ہوگا۔
پالیسی کے مطابق ایس پی کو کانسٹیبل سے سب انسپکٹر کے عہدے تک کے اہلکاروں کی چھٹیوں سے متعلق مکمل اختیارات حاصل ہوں گے۔ دوسری جانب سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ایس ایچ اوز اور انسپکٹرز کو تین دن تک اتفاقی چھٹی منظور کرسکے گا۔
اسلام آباد پولیس کی اس پالیسی کے تحت حج کے لیے 45 دن، عمرہ اور زیارت کے لیے 21 دن، CSS اور PCS امتحانات کے لیے 20 دن تک، جبکہ انٹرویو کے لیے اضافی 15 دن کی چھٹی مقرر کی گئی ہے۔ خواتین اہلکار شادی کے لیے ایک ماہ اور مرد اہلکار 10 دن کی چھٹی حاصل کرسکیں گے۔ اس طرح نئی پالیسی میں مختلف ضروریات کے لیے چھٹیوں کی مدت اور منظوری کا طریقہ واضح کیا گیا ہے۔






